بارسلونا کے وَیج دی ہیبرون اسپتال میں دنیا کا پہلا چہرے کا ٹرانسپلانٹ
Screenshot
بارسلونا کے معروف اسپتال وَیج دی ہیبرون نے دنیا میں پہلی مرتبہ ایسے عطیہ دہندہ سے جزوی چہرے کا ٹرانسپلانٹ کامیابی سے انجام دیا ہے، جس نے اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں یوتھینیزیا کے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
عطیہ دہندہ ایک خاتون تھیں، جن کے سر اور چہرے کی جسمانی ساخت وصول کنندہ خاتون کارمے سے ملتی جلتی تھی۔ کارمے ایک کیڑے کے کاٹنے کے بعد ہونے والی شدید انفیکشن کا شکار ہوئیں، جس کے باعث ان کے چہرے کے خلیات اور بافتیں تباہ ہو گئی تھیں۔
اس تاریخی آپریشن کو وَیج دی ہیبرون یونیورسٹی اسپتال کے تقریباً سو ماہرین پر مشتمل طبی عملے نے انجام دیا۔ اسپتال کی جانب سے پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں وصول کنندہ کارمے بھی موجود تھیں، جب کہ اسپتال کی انتظامیہ اور طبی ٹیم کے ارکان نے بھی شرکت کی۔
ڈاکٹروں کے مطابق، اس نوعیت کے ٹرانسپلانٹ کے لیے مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی مشترکہ کاوش ناگزیر ہوتی ہے، جن میں پلاسٹک سرجری، ٹرانسپلانٹس، امیونولوجی، نفسیات، کلینیکل سائیکالوجی، بحالیٔ صحت اور آئی سی یو شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے کے ٹرانسپلانٹ کے لیے عطیہ دہندہ اور وصول کنندہ کا ہم جنس ہونا، بلڈ گروپ ایک جیسا ہونا اور سر کے جسمانی پیمانے باہم مشابہ ہونا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ چہرہ انسانی شناخت اور شخصیت کا بنیادی مظہر ہوتا ہے۔
اسپتال کے شعبۂ پلاسٹک سرجری اور برن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر خوان پیری باریٹ کے مطابق، کارمے کو بولنے، سانس لینے اور خوراک حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا، جو براہِ راست ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکی تھیں۔
انہوں نے بتایا، “جو واقعہ بظاہر ایک معمولی سا حادثہ لگتا تھا، وہ کارمے اور ان کے خاندان کے لیے ایک خوفناک تجربے میں بدل گیا۔”
کارمے کو ابتدا میں غذائیت فراہم کرنے کے لیے ہنگامی سرجری کی غرض سے اسپتال لایا گیا تھا، جہاں انہیں چہرے کے ٹرانسپلانٹ کا آپشن دیا گیا۔
پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کارمے نے کہا کہ وہ اب خود کو “بہتر اور خوش” محسوس کر رہی ہیں۔انہوں نے طبی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “وہ دن رات میرے ساتھ رہے اور مجھے اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھا، یہ سب کچھ شاندار تھا۔”
انہوں نے اپنے معالج کو “فرشتۂ نجات” قرار دیا اور عطیہ دہندہ اور ان کے اہلِ خانہ کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر باریٹ کے مطابق، چونکہ عطیہ دہندہ نے پہلے سے یوتھینیزیا کی درخواست دے رکھی تھی، جس کے عمل میں فیصلہ اور موت کے درمیان ہفتوں یا مہینوں کا وقفہ ہو سکتا ہے، اس لیے سرجری کی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ مریضہ اور عطیہ دہندہ دونوں کی تھری ڈی منصوبہ بندی کی گئی، جس سے چہرے کی بافتوں کی تعمیر نو میں نمایاں سہولت ملی۔
اسپتال کے ڈونیشن اور ٹرانسپلانٹ پروگرام کے کوآرڈینیٹر البرتو سانڈیومینخے کے مطابق، دونوں خواتین کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا اور یوتھینیزیا سے متعلق قانون پر “سختی سے عمل” کیا گیا۔
واضح رہے کہ چہرے کا ٹرانسپلانٹ ایک انتہائی پیچیدہ جراحی عمل ہے، جو 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران جلد، چربی، اعصابی ریشے، چہرے کے عضلات اور ہڈیوں کو منتقل کیا جاتا ہے، جن کی ساخت نہایت باریک اور سہ جہتی ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں اب تک صرف 54 چہرے کے ٹرانسپلانٹ کیے جا چکے ہیں، جب کہ اس شعبے میں کام کرنے والے مراکز کی تعداد تقریباً بیس ہے۔