پابلو ایگلیسیاس نےخانہ جنگیِ اسپین پر مباحثے کی دعوت مسترد کر دی
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین کے سابق نائب وزیراعظم اور پودیموس کے سابق سیکرٹری جنرل پابلو ایگلیسیاس نے معروف ادیب آرتورو پیریز ریورتے کی جانب سے خانہ جنگیِ اسپین پر مباحثے کی دعوت مسترد کر دی ہے۔ یہ مباحثہ اکتوبر میں سیویل میں ہونے والے ادبی سلسلے ’لیتراس اِن سیویلّا‘ کے گیارھویں ایڈیشن کے تحت منعقد ہونا تھا۔
سرکاری ٹی وی چینل لا دوس کے پروگرام مالاس لینگواس میں گفتگو کرتے ہوئے پابلو ایگلیسیاس نے کہا “میں دعوت پر شکر گزار ہوں، مگر مجھ سے اس بارے میں توقع نہ رکھی جائے۔”ایگلیسیاس نے پیریز ریورتے کی جانب سے خانہ جنگی پر مباحثے کے انعقاد پر تنقید کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ“یہ ایسا ہی ہے جیسے جولیو ایگلیسیاس خواتین کے حقوق پر سیمینار کروا رہے ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ کسی ادیب کے ادبی کام اور اس کے سیاسی کردار میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق پیریز ریورتے ایک ایسے شخص ہیں جو دائیں بازو کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں اور بائیں بازو کی جماعتوں، خصوصاً پودیموس، پر مسلسل تنقید اور توہین کرتے رہتے ہیں۔
پابلو ایگلیسیاس نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ بائیں بازو کے کچھ حلقے اب دائیں اور انتہائی دائیں بازو کے طے کردہ بیانیے کے تحت خانہ جنگی پر بحث کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ“یہ بیانیے ہمیں اس بنیادی تاریخی حقیقت کو سمجھنے نہیں دیتے جو آج کے اسپین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ پیشہ ور مؤرخین کو “انتہائی دائیں بازو کے پروپیگنڈا کرنے والوں” کے ساتھ بیٹھ کر بحث نہیں کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ فورم پہلے ہی ممکنہ مظاہروں، جنہیں منتظمین نے “انتہائی بائیں بازو کے گروہوں” سے منسوب کیا، اور پودیموس کی جانب سے دباؤ کے باعث ملتوی کیا جا چکا تھا۔ اب یہ پروگرام 5 سے 9 اکتوبر تک منعقد ہوگا اور اس کا عنوان ’لا گوئرا کے پِردیموس‘ (وہ جنگ جو ہم ہار گئے) برقرار رکھا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق اگر اس عنوان کے ساتھ پہلے سوالیہ نشان نظر آیا تو وہ طباعتی غلطی تھی۔
اس فیصلے سے قبل متعدد مقررین نے بھی شرکت سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ ان میں ناول نگار دیود اوکلیس شامل ہیں، جو حالیہ نادال ایوارڈ کے فاتح ہیں۔ انہوں نے اس فورم میں سابق وزیراعظم خوسے ماریا اثنار اور ووکس کے بانی رہنماؤں میں سے ایک ایوان اسپینوسا دے لوس مونتیروس کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا۔
اسی طرح متحدہ بائیں بازو (IU) کے وفاقی کوآرڈینیٹر انتونیو مائیّو اور اندلسی سوشلسٹ پارٹی (PSOE-A) کی نائب سیکرٹری جنرل ماریا مارکیز نے بھی شرکت سے انکار کیا۔
دیود اوکلیس کے حوالے سے پیریز ریورتے نے کہا کہ“وہ اب دوبارہ مدعو نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے خود کو بدنام کیا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ ایونٹ متنازع بنے۔”