“امیگریشن میں ’ایفیکٹو کال‘ نام کی کوئی چیز نہیں، اُن لوگوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی جو پہلے ہی اسپین میں رہتے اور کام کرتے ہیں”انٹرویو: آئرین مونتیرو

Screenshot

Screenshot

پودیموس کی رہنما اور سابق وزیر آئرین مونتیرو نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اقدام کسی نئے ہجرتی دباؤ کا سبب نہیں بنے گا، کیونکہ یہ عمل اُن افراد کے لیے ہے جو پہلے ہی اسپین میں مقیم اور کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، “ایفیکٹو کال ایک جھوٹ ہے، یہ لوگ پہلے ہی یہاں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ استحصال کی حالت میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔”

آئرین مونتیرو نے کہا کہ حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت یہ ریگولرائزیشن ڈیڑھ ماہ کے اندر شروع ہو جائے گی۔ اندازاً پانچ سے آٹھ لاکھ افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ درخواست کے عمل میں غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں ختم کی جا رہی ہیں اور درخواست منظور ہوتے ہی عارضی رہائش اور کام کا اجازت نامہ دیا جائے گا۔

Screenshot

پی پی اور ووکس کی جانب سے اس اقدام پر تنقید کے جواب میں مونتیرو نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کہنا کہ اس سے عوامی خدمات پر بوجھ بڑھے گا، سراسر بدنیتی ہے۔ کچھ سیاسی رہنما چاہتے ہیں کہ لوگ بغیر حقوق کے کام کرتے رہیں۔ ہر انسان کو حقوق حاصل ہیں، اور ان تک رسائی کے لیے دستاویزات ضروری ہیں۔”

انہوں نے اس سوال پر کہ پی ایس او ای ایک سال کی ہچکچاہٹ کے بعد اب کیوں آمادہ ہوا، کہا کہ اس کا سہرا تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور پودیموس کے دباؤ کو جاتا ہے۔ “جب ہم ڈٹ جاتے ہیں اور صاف انکار کرتے ہیں تو نتائج نکلتے ہیں۔”

کاتالونیا کو امیگریشن اختیارات کی منتقلی کے معاملے پر مونتیرو نے کہا کہ پودیموس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ کسی بھی صورت میں نسل پرستانہ زبان یا شقیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ ان کے مطابق موجودہ مسودے میں امیگریشن کو جرائم سے جوڑنا اور اس کے بدلے پولیس فورس میں اضافے کی بات کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ “مہاجرین کو لاٹھیاں نہیں، تعلیم اور صحت چاہیے۔”

قانون سازی میں جنتس کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنتس دراصل الیانسا کاتالانا سے مقابلے میں سخت بیانیہ اپنا رہی ہے۔ “اگر نسل پرستی ختم نہیں کی جاتی تو ہم اس مسودے کی حمایت کے پابند نہیں۔”

مونتیرو نے موجودہ قانون ساز مدت کو اب بھی “عملاً ختم” قرار دیا، تاہم کہا کہ یہ معاہدہ بائیں بازو کو طاقت دیتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ عوامی دباؤ سے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

بجٹ اور سماجی تحفظ سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ پودیموس کسی صورت مکان مالکان کے لیے مزید مراعات قبول نہیں کرے گا۔ “ہم اس وقت یہاں نہ ہوتے اگر حکومت نے سماجی تحفظ کے اقدامات کو عارضی کے بجائے مستقل بنا دیا ہوتا۔”

ریل بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف چند عہدیداروں کی تبدیلی نہیں بلکہ نجکاری کا ماڈل ہے۔ “ٹرانسپورٹ ایک حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے یقینی بنائے۔”

اراگون کے انتخابات اور بائیں بازو کی کمزور پوزیشن پر انہوں نے کہا کہ ترقی پسند حلقوں کا ایک حصہ خود بائیں بازو کو غلط ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، جس سے انتہا پسندی کو تقویت ملتی ہے۔ “اس کے باوجود یہ معجزہ ہے کہ اب بھی لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔”

آخر میں انتخابی اتحاد کے سوال پر آئرین مونتیرو نے کہا کہ اصل بحث یہ نہیں کہ اتحاد کس کے ساتھ ہو، بلکہ یہ ہے کہ کیا سیاست واقعی عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہے۔ “ہم وہ بائیں بازو بنانا چاہتے ہیں جو کرائے قانوناً کم کرے، خوراک سستی کرے، اور جہاں ظلم ہو اُسے ظلم کہنے کی ہمت رکھے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے