سانچز کا اعلان: اسپین میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی

Screenshot

Screenshot

اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ اسپین میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ ان کے بقول “ہمیں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہوگا”، کیونکہ ڈیجیٹل دنیا اس وقت “وائلڈ ویسٹ” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

یہ اعلان انہوں نے دبئی میں منعقد ہونے والی عالمی سربراہی کانفرنس برائے حکومتیں سے خطاب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مبینہ غلط استعمال اور بے لگام طاقت کے خلاف پانچ اہم قانونی اور انتظامی اقدامات کا پیکج پیش کیا۔

سانچیز کے مطابق ان اقدامات کا مقصد “ایک محفوظ، جمہوری اور بنیادی حقوق کا احترام کرنے والا ڈیجیٹل ماحول” قائم کرنا ہے۔

مجوزہ اقدامات کی تفصیل

وزیرِاعظم کے اعلان کردہ پیکج میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:

  1. پلیٹ فارمز کے سربراہان کی قانونی ذمہ داری
     ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہونے والی خلاف ورزیوں کی صورت میں ان کے اعلیٰ منتظمین کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

  2. الگورتھمز میں ہیرا پھیری کو جرم قرار دینا
     غیر قانونی مواد کو پھیلانے یا اس کی دانستہ تشہیر کو فوجداری جرم بنایا جائے گا۔
  3. 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی
     اسپین میں کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی سے روکا جائے گا، اور پلیٹ فارمز کو مؤثر عمر کی تصدیق کے نظام نافذ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
  4. نفرت اور پولرائزیشن کی نگرانی کا نظام
     ایک ایسا نظام قائم کیا جائے گا جو نفرت انگیز مواد کی نشاندہی، مقدار اور اس کے پھیلاؤ کا سراغ لگا سکے، جسے سانچیز نے “نفرت کی ڈیجیٹل چھاپ” قرار دیا۔
  5. بڑی پلیٹ فارمز کی تحقیقات
     استغاثہ کے ساتھ مل کر Grok، TikTok اور Instagram کے خلاف ممکنہ قانونی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔

اپنے خطاب میں سانچیز نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا:“سوشل میڈیا ایک ناکام ریاست بن چکا ہے، جہاں قوانین کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جرائم برداشت کیے جاتے ہیں، سچ کے مقابلے میں جھوٹ زیادہ بکتا ہے، اور آدھے سے زیادہ صارفین نفرت انگیز حملوں کا شکار ہوتے ہیں۔”

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران TikTok پر بچوں کی جعلی فحش تصاویر کے پھیلاؤ کے الزامات لگے، جو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئیں۔ اسی طرح انہوں نے X (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے، “مہاجر ہونے کے باوجود”، اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے اسپین حکومت کے ایک خودمختار فیصلے کے خلاف غلط معلومات پھیلائیں، جس کا تعلق ملک میں پانچ لاکھ تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت سے تھا۔

سانچیز نے یہ بھی الزام لگایا کہ Grok نامی مصنوعی ذہانت نے غیر قانونی جنسی مواد تیار کیا، جبکہ Instagram پر دنیا بھر میں کروڑوں صارفین کی جاسوسی کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔

وزیرِاعظم نے واضح کیا:“اگر ہم اپنا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں کنٹرول واپس لینا ہوگا، اور ان پلیٹ فارمز کو بھی وہی قوانین ماننے ہوں گے جو سب پر لاگو ہوتے ہیں۔”

انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، لیکن ساتھ ہی کہا:“ہم جانتے ہیں کہ یہ لڑائی مشکل ہے، مگر ہمارا عزم ان کی دولت سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اسپین عملی اقدامات کرے گا۔”

سانچیز کے مطابق حکومت اگلے ہی ہفتے کابینہ کے اجلاس میں ان اقدامات کی منظوری دے گی۔

دبئی سمٹ کے موقع پر اپنے وسیع تر خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسپین “دیواریں نہیں، پل بناتا ہے”، امن، تعاون اور انسان کو معیشت کے مرکز میں رکھنے پر یقین رکھتا ہے، اور دنیا اس وقت “تیزی سے اور بدتر سمت میں بدل رہی ہے”۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے