پیرس (24 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز) فرانس میں حکومت اور سماجی پالیسیوں کے خلاف ہفتے کے روز ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی تعداد 8 لاکھ کے قریب تھی۔ مظاہروں کے دوران مختلف شہروں میں پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق دارالحکومت پیرس میں تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے، تاہم فرانس کی بڑی مزدور تنظیم کنفیڈریشن جنرل آف لیبر (CGT) نے پیرس میں مظاہرین کی تعداد ڈھائی لاکھ بتائی۔ مظاہروں کا بنیادی مقصد مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔
مزدور تنظیم نے حکومت اور کاروباری اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے سماجی مسائل کا حل نکالیں۔ تنظیم نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔
پیرس میں مظاہرین کی بڑی تعداد طلبہ، یونیورسٹی کے نوجوانوں اور مزدور تنظیموں کے کارکنوں پر مشتمل تھی۔ انتظامیہ نے مظاہرے کا راستہ تبدیل کرتے ہوئے اسے شہر کے مرکزی علاقے سے باہر منتقل کر دیا۔ مارچ پورٹے ڈی اٹلی سے شروع ہو کر پورٹے ڈی ونسینس پر اختتام پذیر ہوا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق شام ساڑھے سات بجے تک تقریباً ایک ہزار گرفتاریاں ہو چکی تھیں، جبکہ ان کی تعداد میں اضافے کا امکان تھا۔ پیرس میں حکام نے 65 افراد کی گرفتاریوں اور 40 افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع دی، جن میں کم عمر افراد بھی شامل تھے۔
پیرس کے علاوہ لیل، نیس، مارسیلیا، رین، مونٹپیلیئر اور لیون میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے۔ لیون میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ گرینوبل اور بورڈو میں مشتعل افراد کے ساتھ جھڑپوں اور رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
مارسیلیا میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، ایک آگ بجھائی گئی اور زیورات کی دو دکانوں سمیت متعدد کاروباری مراکز میں لوٹ مار کی اطلاعات ملیں۔ نیس میں ایک انتہا پسند دائیں بازو کے گروہ کی جانب سے پُرامن مظاہرین پر حملے کی بھی اطلاع دی گئی۔
حکام کے مطابق سکیورٹی ادارے ملک بھر میں نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مزید بدامنی کو روکا جا سکے۔
