جیفری اپسٹین،ناروے کی شاہی شخصیتیں بھی سکینڈل میں پھنس گئی
Screenshot
جیفری اپسٹینJeffrey Epstein کے تین ملین سے زائد فائلز سامنے آنے کے بعد، ناروے کی شاہی شخصیتیں بھی سکینڈل میں پھنس گئی ہیں۔ ان فائلز میں ناروے کی ولی عہدہ شہزادی Mette-Marit کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے Epstein کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے۔
شہزادی نے 2006 میں Epstein کے خلاف پہلی بار بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایات کے سامنے آنے کے باوجود ان کے ساتھ رابطے رکھے، اور 2013 تک مسلسل میل کا تبادلہ کرتی رہیں۔ ان میلز سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں کے تعلقات کافی قریبی تھے؛ شہزادی اپنے خاندانی معاملات، صحت، اور حتیٰ کہ دانت سفید کرنے کے ڈینٹسٹ تک کے بارے میں Epstein سے بات کرتی تھیں۔
سب سے سنگین بات یہ سامنے آئی کہ ایک میل میں شہزادی نے Epstein سے پوچھا کہ کیا ان کے بیٹے کے کمپیوٹر کا وال پیپر “دو عورتیں جو سرف بورڈ لے کر کھڑی ہیں” ہونا مناسب ہوگا۔ Epstein نے جواب دیا: “چھوڑ دو، ایک ماں کو بیچ میں نہیں آنا چاہیے۔” ایک اور میل میں شہزادی نے لکھا کہ “پیرس میں بے وفائی کے لیے اچھا ماحول ہے۔”
شاہی محل نے بیان جاری کیا کہ Mette-Marit کو اپنی سمجھداری کی کمی کا احساس ہے اور وہ ذمہ داری قبول کرتی ہیں کہ انہوں نے Epstein کے ماضی پر بہتر تحقیق نہیں کی اور جلدی فیصلہ کر لیا۔ Epstein 2008 میں نابالغ لڑکیوں کے ساتھ فحاشی کے جرم میں سزا یافتہ تھا۔
اس وقت یہ اسکینڈل خاصا نازک موقع پر آیا ہے، کیونکہ شہزادی کا بیٹا Marius Borg Hoiby اس ہفتے عدالت میں پیش ہوگا، جہاں وہ 38 الزامات، جن میں چار زنا بالجبر اور خواتین پر تشدد کے کیس شامل ہیں، کا سامنا کرے گا۔ پولیس نے اسے پہلے ہی دو دن قبل ایک چھری کے تنازع کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا۔
فائلز میں دیگر اعلیٰ شخصیات کے نام بھی ہیں، جیسے سابق وزیر اعظم Thorbjorn Jagland، جو Epstein کے ساتھ ملاقاتوں کو “ڈپلومیٹک سرگرمی” قرار دے چکے ہیں۔ یہ معاملہ ناروے میں شاہی خاندان کے لیے سنجیدہ سیاسی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔