بارسلونا میں نقاب پوش مظاہرین کی موسوس پولیس سے جھڑپیں، شہری املاک کو نقصان، دکانیں بند اور پولیس نے شہر کے مرکزی علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ہسپانوی اخبار ایل پائیس کے مطابق، ہفتے کی شام 24 اکتوبر 2026 کو بارسلونا کے مرکزی علاقے میں سینکڑوں نوجوان جمع ہوئے، جہاں مظاہرین کے چھوٹے چھوٹے گروہوں نے توڑ پھوڑ، دکانوں میں لوٹ مار اور شہری املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔
موسوس دی اسکوادرا پولیس اور بارسلونا کی شہری پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر نفری تعینات کی۔ پولیس نے نقاب پوش مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، جبکہ متعدد دکان داروں نے نقصان اور لوٹ مار کے خدشے کے پیشِ نظر اپنی دکانیں بند کر دیں۔
بارسلونا سٹی کونسل کے مطابق، یہ احتجاج پیشگی اطلاع دیے بغیر منعقد کیا گیا تھا۔ پولیس نے پلاسا کاتالونیا اور اس کے اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا تاکہ مزید افراد متاثرہ علاقے میں داخل نہ ہو سکیں۔ یہ حفاظتی حصار لا رامبلا سے گران ویا اور پلاسا ڈی اورکیناؤنا سے یونیورسیتات تک پھیلا ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق، تشدد کرنے والے بعض نقاب پوش افراد نے کچرے کے کنٹینروں کو آگ لگائی، سڑکوں پر نصب سامان کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ بعض مظاہرین نے ڈنڈوں اور سلاخوں کی مدد سے کھڑی موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
رامبلا کاتالونیا کے قریب مختلف اشیا جمع کرکے بڑی رکاوٹ کھڑی کی گئی، جس میں موٹر سائیکلیں اور سائیکلیں بھی پھینکی گئیں۔ اس رکاوٹ میں آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو طلب کرنا پڑا۔ پھولوں کے ایک اسٹال کا شیشہ توڑ کر اندر موجود سامان بھی لوٹ لیا گیا، جبکہ کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک آلات فروخت کرنے والی دکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے باعث شہر کے مصروف مرکز میں بھگدڑ جیسی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ احتجاج شام تقریباً سات بجے شروع ہوا، جب نوجوان لا رامبلا اور ملحقہ سڑکوں پر دوڑتے ہوئے آگے بڑھے۔
بعض مظاہرین نے بتایا کہ انہیں سوشل میڈیا چیٹس کے ذریعے جمع ہونے کی دعوت دی گئی تھی تاکہ فرانس میں ہونے والے احتجاج جیسا مظاہرہ کیا جا سکے۔
یہ احتجاج پلاسا کاتالونیا میں جاری رہائشی مسائل سے متعلق پُرامن دھرنے کے قریب ہوا۔ دھرنے کی ترجمان کیارا مونروئے نے کہا کہ منتظمین اپنے کئی ہفتوں سے جاری پُرامن احتجاج کو پُرتشدد نہیں بنانا چاہتے۔
