اسپین حکومت کے غیر معمولی اقدام کو امید کی نئی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔شہزاد بھٹی
Screenshot
بارسلونا(دوست نیوز)معروف سیاسی وسماجی شخصیت شہزاد اصغر بھٹی نے سانچز حکومت کی جانب سے امیگریشن کے اوپن ہونے پر اسپین کے بڑے اخبارسے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد تارکین وطن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور لوگ اس غیر معمولی اقدام کو امید کی نئی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اخبار لکھتا ہے 1998میں جب اُس جہاز نے، جس پر شہزاد بھٹی کام کرتے تھے، اسپین کے ساحل پر لنگر ڈالا تو انہوں نے وہیں اترنے کا فیصلہ کیا اور پھر کبھی واپس جہاز پر نہیں گئے۔ اُس وقت ان کی عمر صرف 20 برس تھی۔ وہ بارسلونا میں بسنے والے پاکستانیوں کی پہلی نسل میں شامل تھے، جن کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے علاقے گجرات سے تھا۔
شہزاد بھٹی بتاتے ہیں کہ ایک دوست نے ان کے لیے ایک کمرے کا انتظام کر دیا، جہاں وہ تین ماہ تک رہے۔ اس کے بعد انہوں نے ٹرکوں کے ذریعے گھروں تک گیس کے سیلنڈر پہنچانے کا کام شروع کیا۔ ان کے بقول، یہ کام اُس وقت بھی اور آج بھی غیر رسمی معیشت کا حصہ ہے، اور اس کے بدلے انہیں صرف لوگوں کی دی ہوئی معمولی ٹِپس ہی ملتی تھیں۔
اسپین آمد کے دو سال بعد، سن 2000 میں، اُس وقت کی اژنار حکومت نے تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا عمل شروع کیا۔ اس کے بعد شہزاد بھٹی کو باقاعدہ معاہدے کے تحت گودام میں ملازمت ملی، اور پھر وہ جہازوں کی مکینیکل کمپنی سے وابستہ ہو گئے۔
شادی شدہ اور تین بچوں کے والد شہزاد بھٹی فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے بچے روانی سے کاتالان زبان بولتے ہیں۔ آج، 47 برس کی عمر میں، وہ دو سپر مارکیٹ فرنچائزز کے مالک ہیں، جن میں ایک کندس اور دوسری سوما شامل ہے۔
شہزاد بھٹی 26 سال بعد ہونے والی نئی غیر معمولی ریگولرائزیشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، “یہ صرف تارکین وطن کے لیے نہیں بلکہ اسپین کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ جب لوگ قانونی ہوتے ہیں تو ٹیکس اور سوشل سکیورٹی ادا کرتے ہیں۔ اس سے جرائم میں بھی کمی آتی ہے، کیونکہ جن کے پاس کاغذات نہیں ہوتے اور کام نہیں ہوتا، ان کے لیے جرم کی طرف جانا آسان ہو جاتا ہے۔”