پی پی کی برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز ووکس کی حمایت سے منظور
Screenshot
پالما(دوست نیوز)بالئیرک جزائر کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز پاپولر پارٹی (PP) کی پیش کردہ غیر پابند قرارداد (PNL) منظور کر لی، جس کے ذریعے ہسپانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر برقع اور نقاب کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
اس شق کے حق میں پی پی اور ووکس نے ووٹ دیے، جبکہ میس پر مینارکا کے دو ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ سوشلسٹ پارٹی (PSIB)، میس پر مالورکا اور یونیداس پودیموس کے 23 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔
قرارداد کا دفاع کرتے ہوئے پی پی کی رکنِ پارلیمنٹ کرستینا گِل نے کہا کہ ’’یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ خواتین کو سر سے پاؤں تک خود کو ڈھانپنے پر مجبور کیا جائے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایک جمہوری ریاست ان ثقافتی، مذہبی یا روایتی ماڈلز سے لاتعلق نہیں رہ سکتی جو مساوات، وقار اور آزادی جیسے ناقابلِ سمجھوتہ اصولوں کے خلاف ہوں‘‘۔
انہوں نے خواتین کے ختنہ (FGM) کے خلاف موقف کا بھی حوالہ دیا، جو اس قرارداد میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ’’اسپین میں 17 ہزار لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں خواتین کے ختنہ جیسے وحشیانہ عمل کا خطرہ لاحق ہے‘‘۔
کرستینا گِل نے آخر میں واضح کیا کہ یہ قرارداد ’’کسی مذہب یا کسی طبقے کے خلاف نہیں‘‘ بلکہ ان ’’رسومات کے خلاف ہے جو معاشرتی اقدار سے براہِ راست ٹکراتی ہیں‘‘۔
ووکس کے رکنِ پارلیمنٹ سرخیو رودریگس نے اپنی تقریر کا آغاز اس بات سے کیا کہ یہ قرارداد ’’ووکس کی وہی تجویز ہے جسے پی پی نے نرم اور بے اثر بنا دیا ہے‘‘۔ ووکس اس سے قبل اسی نوعیت کی ایک تجویز پیش کر چکا تھا، جسے پی پی نے مسترد کر دیا تھا۔
ووکس نے متن میں ترامیم پیش کیں جن میں صرف برقع یا نقاب نہیں بلکہ اسلامی حجاب پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ رودریگس کے مطابق ’’کسی عورت کی عزت کپڑے کے سینٹی میٹرز سے نہیں ناپی جا سکتی‘‘۔ تاہم یہ ترامیم منظور نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے بائیں بازو کی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’خواتین کے ساتھ امتیاز کی علامت‘‘ کو برداشت کر رہی ہیں اور اسے ’’کثیر الثقافتی‘‘ ہونے کے نام پر قبول کیا جا رہا ہے۔
بائیں بازو کی جماعتوں نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’پی پی اور ووکس کے درمیان ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ اسلامی نقاب خواتین کو دبانے کی علامت ہے، مگر ان کے نزدیک پی پی کی پیش کردہ قرارداد اس مسئلے کا حل نہیں۔
سوشلسٹ رکن تریسا سواریس کے مطابق ’’یہ اس بات کی جنگ ہے کہ کون زیادہ نسل پرست ہے اور کون زیادہ نفرت پھیلاتا ہے‘‘۔
میس پر مالورکا کے رکن لوئیس اپیستگیویا نے کہا کہ ’’اسلامی نقاب پر عمومی پابندی اس کے خاتمے کا درست ذریعہ نہیں‘‘ اور الزام لگایا کہ ’’یہ جماعتیں خواتین کے بجائے ووکس کے ساتھ اپنی سیاسی مسابقت کے بارے میں سوچ رہی ہیں‘‘۔
یونیداس پودیموس کے رکن خوسے ماریا گارسیا نے کہا کہ ’’مسلمان خواتین کو اعتماد میں لیے بغیر ایسا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے‘‘۔ ان کے مطابق یہ اقدام ’’خواتین کو آزاد کرنے کے بجائے ایک مذہب کو نشانہ بنانے‘‘ کی کوشش ہے۔