فرانسیسی حکومت نے بیشتر شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی، دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 70 ہزار اہلکار تعینات
فرانس میں ہفتے کے روز احتجاجی مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا، جہاں طلبہ، بے روزگار افراد، زرد جیکٹ تحریک کے کارکنوں اور سرکاری ملازمین نے ایک بار پھر سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ مظاہرین کو سرکاری تعلیم کے معیار میں گراوٹ اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر شدید تشویش ہے۔
صبح کے وقت صورت حال پُرسکون رہی، تاہم دوپہر کے آغاز کے بعد کئی شہروں میں کشیدگی بڑھ گئی۔ گرینوبل، نیس، اسٹراسبرگ اور مارسیلیا سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
دارالحکومت پیرس میں تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد نے دوپہر دو بجے سے شہر میں احتجاجی مارچ کیا۔ ابتدا میں مظاہرہ پُرامن رہا، لیکن بعد ازاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور واٹر کینن کے ذریعے کارروائی شروع کردی۔
صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب شہر میں سٹن گرینیڈز کی آوازیں گونجنے لگیں۔ کچھ دیر پہلے تک حالات معمول کے مطابق دکھائی دے رہے تھے، تاہم اچانک پولیس کارروائیوں کے باعث احتجاجی ماحول میں تناؤ بڑھ گیا۔
فرانسیسی حکومت نے نئے واقعات اور ممکنہ بدامنی کی روک تھام کے لیے ملک کے بیشتر شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ پیرس میں امن و امان برقرار رکھنے اور مزید واقعات کو روکنے کے لیے 70 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
احتجاج میں شامل مختلف طبقات کی شکایات میں سرکاری تعلیمی نظام کی خراب ہوتی صورت حال، مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات نمایاں ہیں۔ طلبہ، بے روزگار افراد، زرد جیکٹ تحریک کے کارکنوں اور سرکاری ملازمین کی شرکت اس احتجاج کو مختلف سماجی اور معاشی مسائل سے جڑے ایک وسیع مظاہرے کی شکل دیتی ہے۔
پیرس میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے باوجود دن کے دوسرے حصے میں کشیدگی نے صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے اقدامات کے بعد مختلف مقامات پر حالات قابو میں رکھنے کی کوششیں جاری رہیں۔
