فرانس میں سکیورٹی ہائی الرٹ، ممکنہ دہشت گردی کے پہلو سے تحقیقات جاری، ہفتے کو 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہوں گے
فرانس کے دارالحکومت پیرس سے تقریباً 30 کلومیٹر مغرب میں واقع شہر ٹراپ میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے، جن میں بعض کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے 39 سالہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم واقعے کے محرکات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق، قومی انسدادِ دہشت گردی پراسیکیوشن آفس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فائرنگ کا تعلق دہشت گردی سے ہے یا نہیں۔
فرانسیسی ٹیلی ویژن چینل بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، زخمیوں میں 12 سالہ بچی بھی شامل ہے، جسے گولیوں کے آٹھ زخم آئے۔ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق، حملہ آور نے مختلف مقامات پر خودکار ہتھیار سے فائرنگ کی۔ ان مقامات میں ایک پٹرول پمپ، مرکزِ صحت اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور نے سیاہ فام افراد کو نشانہ بنایا۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباسٹین لیکورنو نے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اداروں اور عدالتی حکام کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ ٹراپ کے میئر علی رابح نے کہا کہ حملے کے حالات کے پیش نظر جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب فرانس میں مزدور تنظیموں اور یلو ویسٹ تحریک کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ واٹر کینن سے لیس 15 گاڑیاں بھی تیار رہیں گی۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا پر بعض گروہوں کی جانب سے سرکاری عمارتوں پر حملوں اور لوٹ مار کی اپیلیں سامنے آئی ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے پولیس کو سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
