اسپین کی نیشنل پولیس نے سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس کے استعمال کے حوالے سے خبردار کیا ہے جنہیں ’کوریس‘ (Curis) کہا جاتا ہے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ کا مذاق اڑانے، انہیں ذلیل کرنے اور ان کی تضحیک پر مبنی مواد شائع کیا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق، سوشل میڈیا پر اس قسم کی سرگرمیاں متاثرہ افراد کی ذہنی و جذباتی صحت اور تعلیمی اداروں کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ہسپانوی پولیس کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مواد سے اسکولوں میں باہمی احترام اور خوش گوار ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ اکاؤنٹس عموماً کسی اسکول یا تعلیمی ادارے کا نام، مخفف یا تصویر استعمال کرتے ہیں۔ ان پر کلاس روم میں پیش آنے والے روزمرہ واقعات سے متعلق میمز، خاکے اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض مواد محض مزاحیہ اور شائستہ ہوتا ہے، تاہم پولیس کی تشویش ان پوسٹس کے بارے میں ہے جن کا مقصد مخصوص طلبہ یا اساتذہ کو نشانہ بنانا، ان کی تذلیل کرنا یا انہیں رسوا کرنا ہو۔
کسی کے جسمانی خدوخال کا مذاق اڑانا، اس کے بارے میں افواہیں پھیلانا یا توہین آمیز تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنا متاثرہ شخص کو اس کے تعلیمی حلقے میں شرمندگی کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگرچہ ایسی پوسٹس میں فرضی نام، خاکے یا کسی کلاس کا حوالہ استعمال کیا جائے، تب بھی دوسرے طلبہ متعلقہ شخص کو پہچان سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق، معاملے کی نوعیت اور شدت کے لحاظ سے ایسی سرگرمیاں اخلاقی سالمیت کے خلاف جرائم، سنگین توہین یا دیگر قانونی خلاف ورزیوں کے زمرے میں آ سکتی ہیں، جن پر شہری ذمہ داری بھی عائد ہو سکتی ہے۔
پولیس نے متاثرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متعلقہ پوسٹس اور تبصروں کے اسکرین شاٹس محفوظ کریں، جن میں تاریخ، مواد اور اکاؤنٹ کی شناخت واضح ہو۔ صارف نام اور پوسٹس کے لنکس بھی محفوظ رکھے جائیں، جبکہ مواد کو غیر ضروری طور پر دوسروں تک پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
متاثرین کو چاہیے کہ وہ متعلقہ پوسٹس کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شکایت درج کرائیں اور ہراساں کرنے والے اکاؤنٹس کو بلاک کریں۔ کم عمر طلبہ کو کسی قابلِ اعتماد بالغ فرد اور اپنے تعلیمی ادارے کو واقعے سے آگاہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ نیشنل پولیس سے بھی رجوع کرکے شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
