روم (خصوصی رپورٹ) یورپی یونین نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی اور ملک بدری سے متعلق نئے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے، ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے اور یورپ سے باہر واپسی کے مراکز قائم کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اطالوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریگولیشن 2026/2280 یورپی یونین کے سرکاری جریدے میں 15 اکتوبر کو شائع ہوا، جبکہ یورپی یونین کی کونسل نے یکم اکتوبر کو اس کی حتمی منظوری دی تھی۔
نئے قانون کے تحت ایسے غیر ملکی افراد جنہیں یورپ میں قیام کا قانونی حق حاصل نہیں، انہیں وطن واپسی کی کارروائی میں متعلقہ حکام سے تعاون کرنا ہوگا۔ تعاون سے انکار کرنے والوں کو جرمانے، رضاکارانہ واپسی کے پیکیج سے محرومی اور دیگر قانونی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قانون میں مشترکہ یورپی ریٹرن آرڈر کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے رکن ممالک ایک دوسرے کے ملک بدری کے فیصلوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے۔ ابتدا میں دوسرے رکن ملک کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازمی نہیں ہوگا، تاہم تین سال بعد اس نظام کا جائزہ لیا جائے گا۔
نئے ضابطے کی ایک اہم شق یورپی یونین سے باہر تیسرے ممالک میں ’’ریٹرن ہبس‘‘ قائم کرنے کی اجازت ہے۔ متعلقہ ممالک کے ساتھ معاہدوں کی بنیاد پر ملک بدری کے منتظر افراد کو ان مراکز میں منتقل کیا جا سکے گا۔ اس عمل میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پابندی ضروری ہوگی، جبکہ غیر سرپرست کم عمر بچوں کو اس نظام سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد پر غیر معینہ مدت تک یورپ میں داخلے کی پابندی لگانے اور 24 ماہ سے زیادہ حراست میں رکھنے کی بھی گنجائش دی گئی ہے، بشرطیکہ اقدامات قانونی جواز اور تناسب کے اصولوں کے مطابق ہوں۔
رپورٹ کے مطابق تیسرے ممالک میں مراکز سے متعلق شقیں پہلے ہی قابلِ اطلاق ہیں، جبکہ دیگر اقدامات کے لیے ایک سال کی تیاری کی مدت رکھی گئی ہے۔ اس قانون پر عمل درآمد کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اہم چیلنج ہوگی۔
