بازار حصص کبھی بھی ایک دم سے نیچے نہیں گرتا۔ کمپنیوں کی پیداوار اور ترسیل رک جاتی ہے۔ بازار آہستہ آہستہ تنزلی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے۔ معاشی ماہریں یہ کہتے کہ کہ اگر کسی بھی ملک کی مجموعی پیداوار مسلسل تین سہ ماہی روبہ زوال ہو تو اس ملک کی معیشت زوال پذیر ہے۔ اور یہ بات انتہائی حطرے کی علامت ہوتی ہے۔ معاشی پنڈت دوسری سہ ماہی کی گراوٹ کے ساتھ ہی اپنے حصص بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب ایک بڑا سرمایہ اس کمپنی سے نکل جاتا ہے تو پیچھے وہی چھوٹے موٹے پنڈت رہ جاتے ہیں جن کے بقول "سب اچھا ہے” "یہ خریداری کا بہترین موقع ہے”
"مارکیٹ کچھ عرصے بعد اوپر جائے گی”
یقین مانیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ سرمایہ اور مارکیٹیں ،انشاللہ اور دعاوں پھونکوں سے کھبی نہیں چلتی اور ناہی بڑا نام کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔
ازل سے یہی ہوتا آیا ہے اور ابد تک ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالی کے قانون سبھی قوموں اور معاشرے کیلئے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔
بڑی بڑی کمپنیاں ، بڑے بڑے نام ہمیشہ سے ہی کوڑے دان کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ابد تک یہی ہوتا رہے گا۔
سونی کے سی ای او نے کہا تھا :ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔ ہم نے کوئی بری مصنوعات نہیں بنائی تھی،ہمارا قصور یہی تھا کہ ہم مستقبل کی صحیح طریقے سے پیشن گوئی نا کر سکے۔ ہم نے سمجھنے کی بجائے ،سنجیدہ ہونے کی بجائے اپنے آپ کو ہی درست سمجھنے اور صحیح ڈگر پر ہونے کی روش اپنائی ۔ تاریخ نے اس سے پہلے کچھ اشارے دئیے ،لیکن ہم نے ان کاٹھٹھہ اڑایا۔ ہنسے اور خوب ہنسے۔ آج ہماری رونے کی آوازیں ساری دنیا سن رہی ہے۔ یہ ایک کمپنی کا زوال تھا۔
جب بھی کوئی ایجاد ہوتی ہے ہماری دنیا یکسر تبدیل ہو جاتی ہے۔ داناوں، عقلمندوں، ماہرین کو نشانیاں وصول ہو جاتی ہیں۔ منحصر اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ ان کا ٹھٹھہ اڑائیں یا انہیں سنجیدہ لیں۔ کوڑے دان کا حصہ بنیں یا اگلے جہاں کی نئی ،روشن تروتازہ دنیا کی طرف ایک کھڑکی تعمیر کریں۔
کامیابی اسی میں ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس بوسیدہ، پرانی دنیا کو چھوڑ کر اس نئی دنیا کے طور طریقے سیکھیں، تاکہ کامیابی ہمارے قدموں میں آ کے بیٹھ سکے۔
ہمارا سیکٹر پچھلے دو سال سے سکڑ رہا ہے۔ کمائی پہلے جیسی نہیں رہی۔ سیزن نام تھا جس کا اب ایسی کوئی بات رہی نہیں۔ گلیوں میں اب وہی کچھ رہ گیا ہے جو ایک معاشرے کا نچلا ترین طبقہ ہوتا ہے جسے ٹیکنالوجی کی کوئی سمجھ نہیں۔یا کچھ ایسے سیاح جو من موجی ہیں یا کبھی رش کے وقت انہیں ٹیکسی یاد آ جاتی ہے۔ باقی ہر دن گزرنے کے ساتھ ٹیکسی کی خالت پتلی سے پتلی ہوتی جائے گی۔
ائیرپورٹ کی 80 فیصد سے زائد سواری صرف اور صرف اوبر لے گئی۔ تاریفا سات بھی ہوا کرتا تھا۔ ہم کھبی lloret de mar ,Salou یا Sitgesجایا کرتے تھے۔اب ماضی کی خوبصورت یادیں ہی بن کے رہ گئے ہیں۔وہ 10 سے 15 یورز کی سواریاں جنہیں ہم ائیرپورٹ کے مہینے میں” چپاٹے ” لگانے کیلئے چھوڑتے تھے وہ اب 60 سے 70 سواریوں میں سے بہترین سواریاں گردانی جاتی ہیں۔ سارا کوڑا کرکٹ ٹیکسی کے کھاتے میں ڈال کے ٹیکسی کا صحیح مفہوم سمجھا دیا۔
ویک اینڈ پہ تاریفا دو اور ایپلی کیشن کی سواریاں تاریفا 1 کے معیار پر بھی نہیں پہنچتی۔ گالم گلوچ ،لڑائی جھگڑے،بدمعاشی یہی کچھ رہ گیا ہے۔ اسی سے اب ہمارے اخلاق کو جانچا جائے گا۔
ایک سال سے بھی زائد عرصہ گزر گیا وی ٹی سی کا شہر میں ایک بھی کنٹرول نہیں ہوا۔ روندے کا 21 نمبر اخراج کبھی وی ٹی سی کیلئے ڈراوانا خواب تھا۔ آج وہیں سب دندناتے گزرتے ہیں اجازت نامہ 3ہزار کلومیٹر سے بھی دور کا اور بدمعاشی بارسیلونا میں۔ پولیس ائیرپورٹ پر کنٹرول اپنے لیے کرتی ہے نا کی ٹیکسی سیکٹر کیلئے ۔کچھ نادان اس چیز کو بھی اپنی کامیابی گردانتے ہیں۔شہر میں ان کا راج ہے جن کا اس شہر سے تعلق ہی نہیں۔ منزل ان کو مل گئی جو شریک منزل ہی نہیں تھے۔ ہم نے بس رٹے لگا لگا کہ اپنی زبان اور دماغ ہی خراب کیے۔اب مکمل پاگل پن کے دورے کیلئے کاتالان اور وہ انتقامی وار جسے شروع سے اخیر تک سب پر نافذ کروانے کا ذمہ ان دماغی فتور شدہ، نئے نئے کاتالان ، عوام کے فنڈز سے دو سال ٹکا کے جم اور پھر کاتالان کا ایک معیاری کورس۔ لہجے سے وہی سپانس اور گھٹیا ترین گفتکو۔ یہ کاتالان روایات نہیں ۔یہ نئی نئی شمولیت ہے۔ جسے پنجابی میں "میں آئی تے پچھوں آں پر میرا پٹنا ویکھو۔ دوسری طرف بھی حال بہت ہی پتلا ہے۔ لہذا مسافروں کو اپنے سامان اور سرمایے کی حفاظت خود ہی کرنی ہوگی۔
بہت کچھ سے بھی زیادہ ہے لکھنے کو۔ لیکن فرق کچھ نہیں پڑنا۔ انہوں نے اپنی راہ سدھا لی جن کو فرق پڑنا تھا۔ جن کو سمجھ آ گئی کے روپیہ پیسہ گلی میں پڑے پتے یا گند نہیں جنہیں جھاڑو سے ایک دم اکھٹا کیا جا سکے۔ ایک ایک یوروز کیلئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ایک سے دس اور دس سے پچاس اور پچاس سے سو کیلئے اپنی زندگی کے قیمتی ترین دن کی قربانی یوں دی جاتی ہے جیسے ہم پیدا ہی روبوٹ ہوئے ہوں۔
مشقت ریاضت کے بعد سرمایہ کو محفوظ بنا کے بنک سے اعلی شرح سود پہ بمع مہنگی ترین اور استحصال پہ مبنی بیمہ حیات اور بیمہ ٹیکسی یہ علیحدہ پنگے ہیں۔
وہ جنہوں نے سکھ کیلئے اتنا سرمایہ لگایا وہ ٹوٹے ہوئے ہیں۔وہ جن کی تعلیم بھی مکمل نہیں۔ پاکستان میں بھی موج کی، اور یہاں بھی موج ہی کر رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اس سے بہترین ان کو مل نہیں سکتا کیونکہ ساری زندگی وہ اس کے اہل ہو ہی نہیں سکتے۔ ان بندوں کے اخلاق اور زبان اس چیز کی گواہی دے رہے ہیں۔
اس قوم کو پیغمبر بھی درست نہیں کرسکتے جنہوں سے ایسے فرد کو اپنا صدر منتخب کیا جسے زبان کی الف ب سے بھی آشنائی نہیں۔ جب نااہلوں کو منتحب کرو کے تو نااہل ہی مزید نااہلوں کو اپنے لیے منتخب کریں گے۔
امریکی بابائے قوم نے کہا تھا اپنے ملک کی قیادت کیلے ہمیشہ اس فرد کو منتحب کرنا جو عقل میں بہترین ہو اور معاملات کو اچھے طریقے سے سمجھتا ہو۔
اللہ کا قرآن بار بار یہی کہتا ہے اپنے معاملات ان افراد کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں۔ زوال سے پہلے اشارے دیے جاتے ہیں نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ رد کیا جاتا ہے پھر وہی ہوتا ہے جسے قرآن اپنے الفاظ میں۔
یہ اللہ تعالی کی سنتیں ہیں جسے وہ کسی کیلئے بھی تبدیل نہیں کرتا۔
اور ہمارے ذمہ تو پہنچا دینا ہے ۔
