Screenshot
اسپین کے شہر بادالونا کے میئر خاویر گارسیا البیول کے خلاف جون میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام پوسٹ کرنے کے معاملے میں نفرت انگیز جرائم سے متعلق پراسیکیوشن نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ الکبیول نے ایک معمر خاتون کو مبینہ طور پر لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے شخص کو ’’انسانی غلاظت‘‘ قرار دیا تھا۔
البیول نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ مذکورہ شخص کو ’’تیر کر مراکش واپس بھیج دیتے‘‘۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بارسلونا کی صوبائی پراسیکیوشن نے انسانی حقوق کی تنظیم Irídia کی جانب سے البیول کے خلاف دائر کی گئی شکایت کے بعد تحقیقات شروع کی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کا پیغام نفرت انگیز جرم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
یہ واقعہ 17 جون کو پیش آیا، جب البیول نے انسٹاگرام اور ایکس پر ایک مبینہ چور کی تصویر شیئر کی۔ اس شخص پر بادالونا کے لیفیا علاقے میں ایک 81 سالہ معمر خاتون سے جھپٹا مار کر سامان چھیننے کا الزام تھا۔
البیول نے اپنے پیغام میں لکھا کہ 80 سال سے زائد عمر کی خاتون کو لوٹنے کے لیے بہت بڑا بدمعاش ہونا پڑتا ہے۔ آج وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ اسے تیر کر مراکش واپس بھیج دیتے، لیکن موجودہ حکومت کی وجہ سے بدقسمتی سے وہ کل دوبارہ سڑکوں پر آزاد ہوگا۔
انہوں نے گرفتار شخص کو ’’انسانی غلاظت‘‘ بھی قرار دیا تھا۔
بارسلونا کی صوبائی پراسیکیوشن البیول کے خلاف ایک اور معاملے میں بھی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر نفرت انگیز جرم سمیت متعدد الزامات زیرِ غور ہیں۔ یہ تحقیقات گزشتہ 17 دسمبر کو بادالونا کے سابق انسٹی ٹیوٹ B9 کو خالی کرانے کے واقعے سے متعلق ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 400 تارکینِ وطن بے گھر ہوگئے تھے۔
اس سے قبل بھی البیول کو نفرت پر اکسانے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 2011 کے بلدیاتی انتخابات سے قبل انہوں نے ایسے پمفلٹس تقسیم کیے تھے جن میں رومانیہ سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو جرائم سے جوڑا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا گیا تھا۔
