آزاد کشمیر ایک غیر معمولی سیاسی اور سماجی دور سے گزر رہا ہے گزشتہ عرصے میں عوامی بے چینی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج راستوں کی بندش اور مختلف علاقوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ریاستی سیاست کو ایک نئے امتحان سے دوچار کیا ایسے ماحول میں انتخابات کا انعقاد بلاشبہ ایک اہم مرحلہ تھا لیکن کم ٹرن آؤٹ اور بعض حلقوں میں انتخابات کے مرحلہ وار انعقاد پونچھ ڈویژن کے حلقوں میں انتخابات نہیں
ہو سکے نے یہ سوال ضرور چھوڑا ہے کہ عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کو کیسے دوبارہ مضبوط کیا جائے
ان حالات میں مسلم لیگ ن نے انتخابات میں واضح برتری حاصل کی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئی لیکن حکومت سازی کے ساتھ ہی ایک دوسرا سوال بھی سامنے آگیا ہے کیا سیاسی جماعتیں صرف انتخابات کے وقت جمہوریت کا نام لیں گی یا اپنی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری عمل کو مضبوط کریں گی؟
یہ سوال آج مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر صاحب ایک تجربہ کار پارلیمانی رہنما ہیں وہ کئی مرتبہ اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور اسپیکر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں حالیہ انتخابات میں بھی انہوں نے اپنی نشست جیتی دوسری طرف وزارتِ عظمیٰ کے لیے پارٹی نے بالآخر بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کیا جو عام نشست پر کامیاب نہیں ہو سکے تھے اور بعد میں مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی کا حصہ بنے
یہ فیصلہ پارٹی قیادت کا آئینی اور سیاسی اختیار ہو سکتا ہے لیکن اس فیصلے نے مسلم لیگ ن کے اندر جمہوری فیصلوں کے طریقۂ کار پر ایک بنیادی بحث ضرور چھیڑ دی ہے
یہ بحث کسی ایک فرد کو وزیراعظم بنانے یا نہ بنانے کی نہیں اصل سوال یہ ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلے کیسے ہوں؟
اگر ایک سیاسی جماعت خود کو جمہوریت کی علمبردار سمجھتی ہے تو اس کے اندر بھی مشاورت انتخاب اختلافِ رائے اور کارکنوں کی رائے کو اہمیت ملنی چاہیے پارٹی کے عہدے صرف نامزدگی سے نہیں بلکہ باقاعدہ انتخابات سے پُر ہونے چاہئیں ضلعی ڈویژنل اور مرکزی سطح پر کارکنوں کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے
شاہ غلام قادر صاحب کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہو سکتا ہے
اگر وہ ذاتی عہدے یا حکومتی عہدے کے حصول کے بجائے اس موقع پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے اندر ایک باقاعدہ اندرونی جمہوری عمل شروع کرنے کا مطالبہ کریں بلکہ بحیثیت صدر جماعت اس پر کام کا اغاز کر سکتے ہیں
یہ ان کی سیاسی زندگی کا شاید سب سے اہم کردار بن سکتا ہے ہمیں کہیں سے تو شروع کرنا چاہیے
کب تک جمہوری عمل کو غیر جمہوری انداز سے کرتے رہیں گے۔
دور رس نتائج تبھی حاصل ہو سکتے ہیں
جب سیاسی جماعتوں کے اندر
طریقہ انتخاب جمہوری صاف شفاف اور میرٹ بیسڈ ہوگا
نیا ٹیلنٹ سامنے ائے گا نئے چہرے سامنے ائیں گے ان میں ڈلیور کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے یہ ہمارے ہاں سیاست میں سیاسی عہدوں اور پارلیمانی عہدوں پر مخصوص چہروں کے چپکے رہنے سے ایک وقت میں لوگ تنگ ا جاتے ہیں
وقت ا چکا ہے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں
سیاسی جماعتیں سب سے پہلے جمہوری عمل کا اغاز اپنی جماعتوں کے اندر سے شروع کریںپھر سٹیج سے عوام کے سامنے جمہوریت کی بات کرتے ہوئے اچھے لگیں گے
اور اس کے اثرات بھی ہوں گے صدر مسلم لیگ نون ازاد کشمیر
جتنے بھی ذمہ دار عہدے داران ہیں
انہیں یہ کہنا چاہیے کہ
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں پارٹی عہدوں کے لیے باقاعدہ انتخابات ہوں
پارٹی صدر، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیداران کارکنوں کے ووٹ سے منتخب ہوں ضلعی تنظیمیں فعال کی جائیں پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کو بغاوت نہ سمجھا جائے فیصلے چند افراد کے کمروں میں ہونے کے بجائے پارلیمانی اور جماعتی فورمز پر مشاورت سے کیے جائیں
کیونکہ مضبوط سیاسی جماعتیں مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہیں
آج آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کا ایک بڑا سبق بھی یہی ہے کہ عوام کو صرف پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا حق کافی نہیں انہیں مسلسل سنا جانا بھی ضروری ہے
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور حالیہ سیاسی بے چینی کو صرف قانون و امن کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا اس کے پیچھے عوام کے احساسِ محرومی نمائندگی کے بحران اور حکمرانوں سے فاصلے کے سوالات بھی موجود ہیں ان سوالات کا پائیدار جواب سیاسی جماعتوں کے اندر زیادہ جمہوریت زیادہ شفافیت اور زیادہ عوامی رابطے سے ہی دیا جا سکتا ہے
مسلم لیگ ن اگر واقعی آزاد کشمیر میں ایک نئی سیاسی روایت قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے موقع سمجھنا چاہیے
وزیراعظم کون بنتا ہے یہ ایک عہدے کا سوال ہے لیکن پارٹی کے اندر جمہوریت قائم ہوتی ہے یا نہیں یہ آنے والی نسلوں کی سیاست کا سوال ہے
شاہ غلام قادر صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی قوت اور تجربے کو کسی فرد کی مخالفت کے بجائے ایک اصول کے لیے استعمال کریں
وہ کھل کر کہیں کہ
میں کسی عہدے کا مطالبہ نہیں کر رہا میں اپنی جماعت میں جمہوری نظام کا مطالبہ کر رہا ہوں
اگر یہ روایت قائم ہو گئی تو آنے والے وقت میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں قیادت میرٹ کارکردگی اور کارکنوں کے اعتماد سے سامنے آئے گی اور یہی عمل دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے
آزاد کشمیر کو آج شخصیات کی جنگ سے زیادہ اداروں کی مضبوطی کی ضرورت ہے
اور سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت صرف پارلیمنٹ میں نہیں ہوتی جمہوریت پارٹی کے دفتر سے شروع ہوتی ہے
آج شاہ غلام قادر کے سامنے ایک بڑا سیاسی انتخاب ہے ایک عہدے کی سیاست یا ایک جمہوری روایت کی بنیاد
میری رائے میں انہیں دوسری راہ اختیار کرنی چاہیے
سردار ارشد ہیڈ اف کشمیر کمیٹی /نائب صدر مسلم لیگ نون اسپین ممبر مرکزی مجلس مجلس عاملہ ازاد کشمیر
