Screenshot
میڈرڈ: اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے سیوتا میں بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی آمد کے معاملے پر پارلیمنٹ میں حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیوتا کے شہری مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، تاہم حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے انسانی جانوں کے تحفظ اور ملکی قوانین کو اولین ترجیح دی۔
سانچیز کے مطابق 30 جولائی کو سیوتا میں صورتحال اس وقت سنگین ہوگئی جب سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات بڑے پیمانے پر پھیلائے گئے جن میں لوگوں کو سرحد عبور کرنے کی ترغیب دی گئی۔ ان پیغامات میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ اسپین میں داخل ہونے والے افراد کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔
ہسپانوی وزیراعظم نے بتایا کہ اس دوران تقریباً 70 ہزار افراد سیوتا میں داخل ہوئے، جبکہ حکومتی اقدامات اور مراکشی تعاون کے نتیجے میں 90 فیصد سے زائد افراد چند گھنٹوں کے اندر واپس چلے گئے۔ ان کے مطابق تقریباً 63 ہزار افراد مراکش واپس پہنچے، جبکہ واقعے کے دوران 141 افراد ڈوبنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
سانچیز نے سکیورٹی فورسز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں کو ایک انتہائی مشکل صورتحال میں سرحدی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے درمیان فیصلہ کرنا پڑا اور انہوں نے انسانی جانوں کو ترجیح دی۔
مراکش کے ممکنہ کردار کے حوالے سے سانچیز نے کہا کہ حکومت کے پاس فی الحال ایسا ٹھوس ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ مراکش نے اس بحران کی منصوبہ بندی کی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا کہ مراکش نے واقعے کو منظم کیا تھا تو اسپین سخت کارروائی کرے گا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپین اور مراکش کے درمیان سرحدی تعاون اور رابطہ کاری کے نظام کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
