Screenshot
میڈرڈ: سیوتا میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کے معاملے پر اسپین اور مراکش کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ اسپین کی حکومت نے مراکش کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کیے جانے کے باوجود واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی اپنی تحقیقات جاری رکھے گی اور مراکش کی تحقیقات پر مکمل اعتماد نہیں کرتی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مراکش اور اسپین دونوں اپنی اپنی سطح پر تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم اسپین حکومت سیوتا میں پیش آنے والے واقعے کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے اپنی تحقیقات کو اہم سمجھتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی ملک یا ادارے کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز نے بھی پارلیمنٹ میں مراکش کے حوالے سے نسبتاً سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مراکش کے کردار یا ذمہ داری کے واضح شواہد سامنے آئے تو اسپین کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت کے اتحادی جماعتوں اور بعض سوشلسٹ ارکان کی جانب سے بھی مراکش کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مزید سخت پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سومار کے وزرا نے حکومت پر زور دیا ہے کہ رباط کے ساتھ تعلقات میں محتاط رویہ اختیار کیا جائے اور سیوتا کے واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے۔
حکومت کی جانب سے یورپی یونین سے بھی مراکش کے ساتھ تعاون کے موجودہ معاہدوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیے جانے کا امکان ہے، تاکہ مستقبل میں سیوتا جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے سرحدی انتظامات مزید مضبوط کیے جا سکیں۔
ادھر اسپین کے شاہ کا سیوتا اور میلیا کا ممکنہ دورہ بھی سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مراکش کے ساتھ تعلقات پر حکومت کے اندر اور باہر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
