Screenshot
پیرس: فرانس میں خواتین کے حجاب کے معاملے پر تقریباً 40 سال سے جاری سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ صدارتی انتخابات میں آٹھ ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے دوران انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (RN) نے عوامی مقامات پر خواتین کے حجاب پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دوبارہ سامنے رکھ دی ہے۔
نیشنل ریلی کی صدارتی امیدوار میرین لے پین حجاب پر پابندی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی حمایت کر رہی ہیں۔ یہ تجویز پہلے ہی جماعت کے انتخابی پروگرام کا حصہ تھی، تاہم حالیہ دنوں میں پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ فلپ تانگی کے ایک ٹی وی پروگرام میں بیان کے بعد اس معاملے نے دوبارہ شدت اختیار کرلی۔
تانگی نے کہا تھا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو عوامی مقامات پر حجاب پہننے والی خواتین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جس طرح گاڑی میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث شروع ہوگئی۔
بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز (LFI) کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے اس تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خواتین اور مسلمانوں کے خلاف تعصب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت لباس کے حوالے سے ایک قسم کی ’’پولیس‘‘ قائم کرنا چاہتی ہے۔
دوسری جانب RN کے سربراہ جورڈان بارڈیلا نے مؤقف کو قدرے نرم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے کے اگلے ہی دن حجاب پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جائے گی، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ پابندی صرف سرکاری یا مخصوص عمارتوں تک محدود ہوسکتی ہے۔
فرانسیسی حکومت کی ترجمان ماؤد بریژوں نے بھی مجوزہ پابندی کی آئینی حیثیت اور عملی نفاذ پر واضح تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تجزیے کے مطابق حجاب، شناخت، امیگریشن اور امن و امان جیسے موضوعات نیشنل ریلی کے لیے انتخابی اعتبار سے زیادہ فائدہ مند ہیں، جبکہ جماعت کے معاشی پروگرام پر اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ دوسری طرف میلانشوں کی جماعت بھی اس تنازع سے مسلم اور تارکینِ وطن برادریوں کے قریب اپنی سیاسی شناخت مزید مضبوط کرسکتی ہے۔
