Screenshot
صاحبو
آج ہم بات کریں گے اُن انسانوں کی جو دیکھنے میں دو نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک ہیں ایک ہی سوچ ایک ہی دُھن نظریہ
جیسے شیخ سعدی کا قول
“دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا اصل انسانیت ہے۔”
بلکل انہوں نے وہی راستہ اپنایا ،بہت کم لوگ جانتے ہیں
چوہدری شہباز احمد کھٹانہ اور چوہدری عاصم گوندل
اس شہر بارسلونا میں ایک مثال ہے دوستی کی مروت کی عاجزی کی آپ کو یہ دونوں ہمیشہ اکٹھے نظر آئیں گے اور دُعا ہے یہ ہمیشہ اکٹھے ہی رہیں آمین
یہ بارسلونا کے شعبہ ٹیکسی سے وابستہ ہیں اور یہ مشہور ہے اگر کوئی مجبور ہو ایمرجنسی ہو تو یہ مفت میں سروس دیتے ہیں
جب پوری دنیا میں کووڈ پھیلنا شروع ہوا تو ہمارا شہر بارسلونا بھی 14:2020 مارچ کو بند ہوا اُسی رات کو چوہدری شہباز احمد کھٹانہ کے گھر ایک بیٹھک ہوئی اس خطرناک صورتحال کے متعلق سب کچھ بند ہونا تھا سڑکیں سنسان تمام کاروباری مراکز بند ہر طرف موت اور خوف کا راج تھا انسان انسان سے خوف زدہ تھا کوئی کسی سے ہاتھ نہیں ملانا چاھتا تھا اگر گھر میں کسی کو کھانسی ہو یا چھینک آجائے تو سب خوف زدہ ہوجاتے یا خدا اب کیا ہوگا ؟
تب شہباز بھای عاصم بھای ظفر بھای اور کچھ دوستوں نے ایک بات پر غُور کیا اور فیصلہ کنُ انداز میں سب کا ایک ہی فیصلہ تھا کہ ہم کو کچھ بھی ہوجائے ہم میڈیکل کے متعلق تمام عملہ کو فری سروس دیں گے اور اُن کو ہسپتالوں سے گھر اور گھر سے ہسپتالوں، لیبارٹریوں تک پہنچائیں گے انہوں نے اداروں سے رابط کیا اپنے موبائل نمبر ہسپتالوں میں پہنچائے اور سروس شروع کردی جبکہ ڈاکٹری عملہ بھی کووڈ کا شکار ہوتا گیا لیکن یہ سب مرد آہن اپنا فرض ادا کرتے رہے جب بھی ان سے رابط ہوتا یہ بھاگ پڑتے، وقت گزرتا رہا پھر کچھ سرمایہ داروں سے لوگوں نے رابط کیا راشن بوجہ مجبوری تو یہ لوگ پھر گھروں میں راشن پہنچانا شروع ہوگئے، پھر دیکھا دیکھی ان کا بہت بڑا قافلہ بن گیا۔
ارادے جن پختہ ہوں نظر جن کی خدا پہ ہو
تلاطم خیز موجوں سے گھبرایا نہیں کرتے
ہسپتالوں کی سروس پھر مجبور لوگوں کی مدد پورے کاتالونیا تک پھیل گئی کبھی راشن پہنچانا تو کبھی عملہ کو اُن کی منزل تک ،ان کی اس سوچ نے اس کارنامہ نے پوری دنیا میں شہرت پھیلائی
ٹائمز نیویارک، بی بی سی وغیرہ اخبارات میں ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا
پھر وہ لمحہ بھی آیا جب خوف کے بادل چھٹے اور طلوع آفتاب انسانوں کے لیے خوشی کی کرن پھیلانے لگا لوگ دور دور سے ایک دوسرے سے خریت دریافت کرنے لگے دوبارہ چکاچوند زندگی کا حصہ بننے کو تیار ایک دوسرے کے حالات پر غور و فکر معاش
تب ایک یادگار لمحہ آیا ،ہسپتال کے عملےنے نیشنل پولیس والوں نے اور مختلف اداروں نے ان کو دعوت نامے بھیجے ہم آپ سب کو خراج تحسین پیش کرنا چاھتے ہیں
پولیس والوں کے سیلوٹ گاڑیوں کے ہارن ہسپتالوں کے عملے کے ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے، آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر دعائیں اور ان لوگوں کو خصوصی شیلڈز سے نوازا گیا، اندازہ کریں وہ لمحات کیا ہونگے جب انسان کی آنکھیں بھر آتی ہے کہ ایک چھوٹی سی سوچ جو ایک تاریخ بن کر اُبھری
کیوں نا ان کُو خراج تحسین پیش کیا جائے لیکن ان کو خراج تحسین پیش کرتے وقت ان کے اہل خانہ کو مت بھولنا اپنی دعاؤں میں جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اور ان کی ہمت بڑھائی کہ آپ جو کام کرنے لگے ہو آپ بے فکر رہو ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ۔ یہ بھی سوچ نا آئی کہ ہمارا بھی گھرانہ ہے بچے ہیں پھر بھی انسانیت کی خاطر باھر مجبوروں کی خاطر باھر نکلے
میں سلام پیش کرتا ہو ان کو اور ان کے اہل خانہ کو
یہ ہے میرے روشن پاکستان کے روشن ستارے جنہوں نے انسانیت کا درس اپنے کردار سے نمایاں کیا۔
