زندگی میں بعض انتظار ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے صبر، حوصلے اور ایمان کو ہر لمحہ آزماتے رہتے ہیں۔ مگر جو لوگ اپنے رب کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے، وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہ دیر ہوتی ہے اور نہ اندھیر۔ وہ جب عطا کرتا ہے تو انتظار کی ہر تلخی کو خوشیوں کی لازوال بہار میں بدل دیتا ہے۔
آج کی یہ کہانی اسپین کے معروف اور کامیاب پاکستانی کاروباری شخصیت قیصر دھوتھڑ کی ہے، جو صبر، استقامت، امید اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی ایک خوبصورت مثال ہیں۔
قیصر دھوتھڑ کا ڈونر پروڈکشن کا کاروبار اسپین کے صوبہ کاتالونیا میں وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے، جبکہ بارسلونا کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام لا رمبلہ پر بھی ان کے متعدد کامیاب ریستوران قائم ہیں۔ اپنی غیر معمولی کاروباری بصیرت، مسلسل محنت اور دیانت داری کے باعث وہ اسپین میں پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
مگر کامیابیوں کے اس سفر کے پیچھے صبر کی ایک ایسی داستان پوشیدہ ہے جسے سن کر ہر دل اللہ تعالیٰ کی رحمت پر مزید یقین کرنے لگتا ہے۔
قیصر دھوتھڑ اپنے سیٹھ خاندان کے چار گھروں میں واحد نرینہ اولاد تھے۔ ان کے والد کے تینوں بھائیوں کی اولاد میں بھی وہی خاندان کی واحد مردانہ امید تھے۔ ایک وقت تھا جب اس خاندان کے کاروبار عروج پر تھے، مالی خوشحالی تھی، سماجی وقار تھا اور سیاسی اثر و رسوخ بھی نمایاں تھا۔ ان کے چچا، سیٹھ اشرف، یونین کونسل نارنگ کے چیئرمین رہے اور ایک مرتبہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی بنے۔
لیکن دنیا کا دستور ہے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ حالات بدلے، کاروبار متاثر ہوئے، سیاسی اثر کم ہوا اور آسودگی کی جگہ آزمائشوں نے لے لی۔ مگر ان تمام نشیب و فراز کے باوجود خاندان کی امیدوں کا چراغ قیصر دھوتھڑ ہی رہے۔
پھر ان کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ ایک سال، دو سال، پانچ سال… اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے بارہ برس گزر گئے، مگر اولاد کی نعمت نصیب نہ ہوئی۔
ایسے لمحات میں اکثر لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، شکوے کرتے ہیں یا قسمت کو کوسنے لگتے ہیں، مگر قیصر دھوتھڑ نے کبھی اپنے رب کی رحمت سے امید نہیں چھوڑی۔ انہوں نے دعا کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا، صبر کو اپنا ساتھی بنایا اور یقین رکھا کہ جس رب نے دل میں امید پیدا کی ہے، وہ ایک نہ ایک دن ضرور اپنی رحمت کے دروازے کھولے گا۔
پنجابی کا ایک خوبصورت مقولہ ہے۔“بارہ برساں توں بعد تے رب روڑی دی وی سن لیندا اے”
یہ صرف ایک کہاوت نہیں بلکہ امید، یقین اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل اعتماد کا پیغام ہے۔
اور پھر وہ لمحہ بھی آ گیا جس کا برسوں سے انتظار تھا۔
بارہ سال کے طویل صبر کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیصر دھوتھڑ کو اپنی بے پایاں رحمت سے صرف ایک نہیں بلکہ دو عظیم نعمتوں سے نواز دیا۔ ان کے گھر ایک ننھی شہزادی اور ایک شہزادے کی آمد نے خوشیوں کی ایسی بہار بکھیر دی کہ برسوں کی تمام محرومیاں ایک لمحے میں مٹ گئیں ،یہ خوشی صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے امید کا پیغام ہے جو کسی آزمائش سے گزر رہا ہے، کسی دعا کی قبولیت کا منتظر ہے یا حالات سے مایوس ہونے لگا ہے۔
یاد رکھیے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی فراموش نہیں کرتا۔ وہ ہر دعا سنتا ہے، ہر آنسو دیکھتا ہے اور ہر صبر کا بہترین صلہ عطا کرتا ہے، مگر اپنے مقررہ وقت پر۔ انسان وقت دیکھتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ حکمت دیکھتا ہے۔
قیصر دھوتھڑ کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، امید کا چراغ کبھی بجھنے نہ دیں۔ صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین وہ سرمایہ ہیں جو انسان کو ہر آزمائش میں سرخرو کر دیتے ہیں۔
آج ان کے گھر میں گونجتی ننھی کلیوں کی ہنسی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے تو برسوں کے انتظار کی تمام تلخیاں خوشیوں کی لازوال مسکراہٹوں میں بدل جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس ننھی بیٹی اور بیٹے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، انہیں دین و دنیا کی بے شمار کامیابیاں عطا فرمائے، نیک، صالح، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور امتِ مسلمہ کا سرمایہ بنائے، اور قیصر دھوتھڑ کے صبر، یقین اور شکر کو مزید رحمتوں، برکتوں اور کامیابیوں کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
یاد رکھیے۔ اس میں ہم سب کیلیے ایک سبق ہے ۔مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے، جبکہ امید ایک سچے مومن کی پہچان۔ جو شخص اپنے رب کی رحمت پر کامل یقین رکھتا ہے، وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔
