Screenshot
تحریر:ایاز حسین سید
کاتالونیا کا قومی دن- "لادیا دا La Diada”
کاتالونیا کا قومی دن ” لا دیادا La Diada” بڑی شان و شوکت، احترام ،ولولے اور قومی جذبے کے تحت گیارہ ستمبر کو منایا جاتا ہے، اس کا دوسرا نام "ال دیا اونسے دے سیپتیمبرے El dia Once de septiembre” بھی ہے۔ یہ دن دراصل ہسپانوی جانشینی کی جنگ میں، جو1701 تا 1714 تک جاری رہی، بارسلونا کی شکست کے بعد کاتالونیا کی حکومت، اداروں اور قوانین کی تباہی اور بربادی کی یاد تازه کرتاہے۔ هسپانوی جانشینی کی جنگ میں کاتالونیا کی فوج هسپانوی تخت پر ابسبرگ خاندان Habsburg Dynasty کے دعویدار "آرچی ڈوکے چارلس Archi Duque Carlos”کی حمایت میں لڑ رہی تھی جبکہ اسپین کے دیگرعلاقے بشمول میڈرڈ، بوربن خاندان Bourbon Dynasty کے نامزد بادشاہ” فلپ پنجمFelip V” کے حامی تھے۔ چودہ ماہ کے طویل محاصرے کے بعد گیارہ ستمبر سترہ سو چودہ (1714) کو اسپین کے بوربن بادشاہ "فلپ پنجم "کی فوجوں نے بارسلونا پر قبضہ کر لیا اور کاتالان فوجوں کو حتمی شکست دے دی۔
جنگ کے دوران اور اس کے بعد یعنی سترہ سو سات سے سترہ سو سولہ تک اسپین کے پہلے بوربن بادشاہ فلپ پنجم نے "معاہدہ اتریچت Treaty of Utrecht” کے تحت متعدد احکامات جاری کیے جنہیں "نوئیبا پلانٹا ڈگریزLos Decretos de Nueva Planta” کہا جاتا ہے۔ ان احکامات کی رُو سے جنگ کے خاتمے کے بعد کاتالونیا کی خودمختاری سلب کر لی گئی اور وہ تمام ادارے جو تاریخی طور پر تاج آراگون Crown of Aragon اور اس سے بھی پہلے سے کاتالونیا میں رائج تھے ختم کردیے گئے۔ ان احکامات نے مؤثر طریقے سے اور پہلی دفعہ ہسپانوی ریاست اور ہسپانوی شہریت کا تصور پیدا کیا۔ تاج آراگون اور تاج کستالیہ Crown of Castile کے درمیان تمام قانونی امتیازات کو ختم کردیا گیا۔ ان احکامات کی رُو سے "باسک ملک Pais Vasco کے علاوہ تمام اندرونی سرحدوں اورمحصولات کا ختم کر دیا گیا اور ہسپانوی ریاست کے تمام شہریوں کو امریکی اور ایشیائی کالونیوں کے ساتھ تجارت کرنے کا حق دے دیا گیا۔ مزید برآں، تمام اعلیٰ سرکاریٰ افسران کی تقرری میڈرڈ سے براہِ راست ہونا شروع ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ذیلی ادارے ختم کردیے گئے۔ کچھ ہی عرصے بعد سرکاری خط و کتابت میں کاتالان زبان کا استعمال ممنوع قراردے دیا گیا۔ عدالتی مقدمات صرف ہسپانوی ( کاستیلین) زبان میں ہی پیش کیے جاسکتے تھے اور ان پر اسی زبان میں بحث کی جاسکتی تھی۔ ہسپانوی ( کاستیلین) زبان ریاست کی واحد زبان بن گئی اور دیگر زبانیں مثلاً لاطینی، کاتالان وغیرہ غیر قانونی قرار پائیں۔
سب سے پہلے یہ قومی دن گیارہ ستمبر اٹھارہ سوچھیاسی ( 1886ء )میں منایا گیا پھر رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی۔ بد قسمتی سے جمہوری آمر” پریمو دے ریویرا Miguel Primo de Rivera y Orbaneja” نے اپنے دورِ حکومت میں انیس سو تیئس سے انیس سو تیس ( 1923ء سے 1930ء تک) اس تہوار پر مکمل پابندی لگادی تھی۔ کاتالونیا کی پارلیمان اور جنریلیتات نے (انیس سو اکتیس سے انیس سو انتالیس 1931 ء ۔ 1939ء) اس تہوار کو قومی تہوار کا درجہ دیا۔ بدقسمتی سے اسپین کے فوجی آمر "فرانسسکو فرانکو Francisco Franco Bahamonde ” نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد انیس سو انتالیس 1939ء میں اس تہوار پر پھر پابندی لگادی تاہم خفیہ طور پر اس کی تقریبات منعقد ہوتی رہیں۔ فرانکو کی موت کے ایک سال بعد یعنی گیارہ ستمبر انیس سو چھہتر ( 1976ء)میں یہ تہوار سرکاری سطح پر منا یا گیا۔ اس دن بارسلونا میں ایک عظیم الشان جلوس نکالا گیا جس میں کاتالان خود مختاری کا مطالبہ پُر زور انداز میں دہرایا گیا۔ کاتالان پارلیمان نے بحال ہوتے ہی بارہ جون انیس سواسّی (1980) میں سب سے پہلا قانون اسی تہوار کو سرکاری سطح پر منانے کی منظوری دیتے ہوئے پاس کیا۔
عام طور پرتقریبات "فوسل دے لاس موریرس Fosal de las Moreras” بارسلونا سے شروع کی جاتی ہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں شہر کا دفاع کرتے ہوئے کاتالان جانثاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پھراسی جگہ دفن کردیے گئے۔ "فوسل دے لاس موریرس” (اس کا آسان زبان میں مطلب ہے: شہتوت والی قبر) بارسلونا میں” چرچ سانتا ماریا دے مار basílica de Santa María del Mar” سے متصل ایک یادگار چوک ہے۔ یہ چوک دراصل اس قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے جہاں ہسپانوی جانشینی کی جنگ اور بارسلونا کے محاصرے کے دوران شہداکو دفن کیا گیا تھا۔ اس چوک میں یادگار کے طور پر ایک ابدی شعلے کی مشعل ہمیشہ روشن رہتی ہے اور فریڈرک سولر Frederic Soler y Hubert کی مشہور نظم ” ال فوسل دے لاس موریرس” کندہ ہے۔سیاسی جماعتیں، قوم پرست تنظیمیں اور تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اور شہریوں کی کثیرتعداد اس دن بارسلونا شہر کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی مختلف یادگاروں پر پھولوں کی چادر چڑھاتے ہیں۔ آزادی پسند جماعتیں اور ان کے اراکین سارا دن کاتالونیا کے طول و عرض میں مختلف ثقافتی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں اور جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اب یہ تہوار سیاسی امنگوں کا مظہر ہے اور آزادی کے مطالبہ پر ہی شروع ہوتا اور ختم ہوتا ہے۔
