مرتضی وہاب کے ساتھ کھڑے فرد کا نام اسلم غوری ہے- یہ وہی اسلم غوری ہیں جنہیں ایک ایسی غلطی کی سزا دی گئ ہے جو ان سے سرزد ہی نہیں ہوئ ہے-
اسلم غوری کی جگہ جن صاحب کو سیکریٹری صحت کا چارج دیا گیا ہے ان کی امانت و دیانت سے نیب اور اینٹی کرپشن کے افسران بخوبی واقف ہیں!
اسلم غوری نے نرسنگ کونسل کے معاملات میں کرپشن کو کم کرنے کرنے کے لئے جو اقدامات کئے تھے، وہ دراصل بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش تھی جس کے بعد ایک بڑا مافیا ان کے پیچھے لگ گیا تھا-
اسلم غوری نے ایسی ہی ایک بڑی حماقت سندھ میں بھی کی تھی جب انہوں نے سیکریٹری ماحولیات کی حیثیت سے ٹھٹھہ میں پام کے برسوں پرانے درختوں کے پراجیکٹ کو اپنی بے مثال محنت اور اپنی ٹیم کی بھرپور کوششوں سے زندہ کردیا تھا-
جب پھل آیا تو پتہ چلا کہ پورے ملک میں پام کے پھلوں سے تیل نکالنے کی کوئ مشین ہی نہیں تھی- اسلم غوری نے چین سے مشین منگوائ اور جب سپلائر نے کہا کہ آپ کا کمیشن کتنا ہوگا تو ان کا جواب تھا: آپ رشوت کی رقم کے برابر ڈسکاونٹ کردیں-
چینی سپلائر یہ جواب سن کر حیران رہ گیا اور کچھ ہی عرصے میں پام کے پھلوں سے تیل نکالنے والی مشین ٹھٹھہ میں نصب کردی گئ-
میں مرتضی وہاب کے کہنے پر اسلم غوری ،عرفان اللہ والا ، شبیر سومرو اور ڈاکٹر ظفر اقبال کے ساتھ اس مشین کو دیکھنے کے لئے گھوڑا باڑی گیا- ملائشیا سے آئے ہوئے ماہرین نے ہمیں بتایا کہ پام کے ایسے بڑے خوشے ہمارے یہاں کم ہی ہوتے ہیں:
اسلم غوری خوش خوش بتارہا تھے کہ اگر پام کی کاشت پر محمکہ زراعت نے اچھے طریقے سے کام کرلیا تو سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پام کی کاشت ملک میں خوردنی تیل کی پیداوار میں درآمدی بل کو بہت کم کرسکتی ہے- اسلم غوری کا خیال تھا کہ سالانہ دو ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے-
کچھ عرصے کے بعد خبر ملی کہ ملکی معیشت کو سدھارنے کے خواب دیکھنے والے اس افسر کا تبادلہ کردیا گیا ہے-
کچھ عرصے قبل ٹھٹھہ جانے کا موقع ملا تھا- تیل نکالنے کی مشین بند پڑی تھی کیونکہ اسے منگوانے والا اور چلوانے والا افسر بہت دور بھیج دیا گیا تھا-
