Screenshot
میڈرڈ: اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی جانب سے جاری کردہ پیسا 2025 رپورٹ کے مطابق اسپین میں 15 سال عمر کے طلبہ میں 20.3 فیصد ایسے ہیں جن کا تعلق تارک وطن خاندانوں سے ہے۔ یہ شرح یورپی یونین کی اوسط 16.3 فیصد اور او ای سی ڈی کی مجموعی اوسط 16.7 فیصد سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیسا میں شریک مختلف ممالک کے تعلیمی نظاموں میں تارک وطن پس منظر رکھنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ اسپین بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں غیر مقامی پس منظر رکھنے والے طلبہ کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے۔
تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمومی طور پر مقامی طلبہ سائنس کے مضمون میں تارک وطن پس منظر رکھنے والے طلبہ کے مقابلے میں بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔ تاہم جب طلبہ کے سماجی، معاشی اور ثقافتی پس منظر کو مدنظر رکھا جاتا ہے تو یہ فرق کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسپین میں دونوں گروہوں کے درمیان فرق تقریباً 20 پوائنٹس ہے، جو او ای سی ڈی اور یورپی یونین کی اوسط خلیج سے کم ہے۔
رپورٹ میں اسپین کے تعلیمی نظام کے لیے ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ 2025 کے پیسا جائزے میں اسپین کے 15 سالہ طلبہ نے مطالعہ، ریاضی اور سائنس تینوں شعبوں میں ملکی تاریخ کے بدترین نتائج حاصل کیے۔ یہ طلبہ بنیادی طور پر 2020 میں منظور کیے گئے نئے تعلیمی قانون ’’LOMLOE‘‘ کے تحت تیار کیے گئے نصاب سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں اسپین کے طلبہ میں سیکھنے کے لیے ثابت قدمی اور وابستگی کے مثبت رجحان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسپین کا ’’پرسِسٹنس‘‘ انڈیکس 0.26 رہا، جو او ای سی ڈی کی اوسط صفر اور یورپی یونین کی اوسط منفی 0.04 سے بہتر ہے۔
اسی طرح اسپین کے طلبہ میں سائنس سیکھنے کے حوالے سے تجسس کی سطح بھی او ای سی ڈی اور یورپی یونین کی اوسط سے زیادہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق اسپین کے طلبہ اپنے تعلیمی اداروں سے تعلق اور وابستگی کا احساس بھی دیگر کئی ممالک کے طلبہ کے مقابلے میں زیادہ رکھتے ہیں۔
