“سرحدوں پر سخت اور مضبوط کنٹرول ہونا چاہیے۔”اسپین میں امیگریشن پر خوسے ماریا اثنار کی دوٹوک رائے
Screenshot
اسپین میں امیگریشن کا مسئلہ حالیہ برسوں میں سیاسی اور سماجی بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں اسپین کے سابق وزیر اعظم خوسے ماریا اثنار نے ایک حالیہ انٹرویو میں ملک کی امیگریشن پالیسی اور آبادیاتی صورتحال پر واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا ہے۔
والینسیا کے ٹی وی چینل La 8 Mediterráneo کو دیے گئے انٹرویو میں، جو ان کی نئی کتاب Orden y libertad کی اشاعت کے موقع پر نشر ہوا، اثنار نے کہا کہ یورپ اور خصوصاً اسپین ایک بڑے آبادیاتی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر یہ اضافہ پیدائش کی شرح بڑھنے کے بجائے زیادہ تر امیگریشن کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپین میں شرحِ پیدائش تاریخی حد تک کم ہو چکی ہے اور آبادی تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے۔ تاہم ان کے خیال میں امیگریشن اس بحران کا مکمل حل نہیں بلکہ صرف وقتی طور پر کمی کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے تسلیم کیا کہ اسپین کی معیشت کو بعض شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول اگر تارکین وطن نہ آئیں تو کئی ضروری کاموں کے لیے افرادی قوت دستیاب نہیں ہوگی۔
اثنار نے اس بات پر زور دیا کہ امیگریشن کو منظم اور قانونی طریقے سے کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو سرحدوں پر سخت نگرانی رکھنی چاہیے، غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر غیر قانونی افراد کو واپس بھیجنے کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی بھی معاشرے میں مختلف نسل یا اصل کی بنیاد پر مختلف قوانین نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق جب ایسا ہوتا ہے تو معاشرے میں تقسیم پیدا ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف انہوں نے سخت مؤقف رکھنے والی جماعت Vox کے اس مطالبے سے بھی اختلاف کیا کہ تمام مہاجرین کو ملک سے نکال دیا جائے۔ اثنار کے مطابق ایسا کرنا حقیقت پسندانہ نہیں، کیونکہ اس سے ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔