لوگرونیو میں بلدیاتی دفاتر میں برقع اور نقاب کے ساتھ داخلے پر پابندی کی منظوری
Screenshot
اسپین کے شہر لوگرونیو کی بلدیہ نے ایک نئی قرارداد منظور کر لی ہے جس کے تحت بلدیاتی دفاتر میں ایسے لباس کے ساتھ داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جو چہرے کی مکمل شناخت میں رکاوٹ بنیں، جیسے برقع یا نقاب۔ یہ قرارداد ووکس پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اسے پاپولر پارٹی کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ دیگر جماعتوں نے اس کی مخالفت کی۔

بلدیہ کے مارچ کے اجلاس میں منظور ہونے والی اس تجویز کے مطابق بلدیاتی دفاتر میں آنے والے افراد کے لیے چہرے کی واضح شناخت ضروری ہوگی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صرف برقع یا نقاب ہی نہیں بلکہ کوئی بھی ایسی چیز جس سے چہرہ مکمل طور پر چھپ جائے، جیسے ہیلمٹ یا ماسک، اس پابندی میں شامل ہوگی۔ ووکس کی ترجمان ماریا خیمنیز نے اس اقدام کو سکیورٹی اور انتظامی ضروریات سے جوڑا اور کہا کہ اس کا مقصد شہریوں اور بلدیاتی ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
بحث سے پہلے ایک مقامی تنظیم کی رکن اور مسلمان خاتون بلانکا کورٹیس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس تجویز کو غیر ضروری اور اسلاموفوبیا پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگرونیو یا لا ریوجا میں برقع یا نقاب کوئی حقیقی مسئلہ نہیں ہے اور شناخت کے لیے پہلے ہی قانونی طریقے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنی مرضی سے لباس اختیار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور پابندیاں مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں، جن میں سوشلسٹ پارٹی، پودیموس اور پارتیدو ریوخانو شامل ہیں، نے اس قرارداد کو غیر ضروری اور امتیازی قرار دیا۔ ان جماعتوں کے مطابق یہ اقدام کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بناتا ہے اور معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔
پاپولر پارٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف سکیورٹی اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی مذہبی گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بلدیاتی دفاتر میں واضح شناخت کو یقینی بنانا ہے۔