رمضان کے دوران اسکولوں میں رقص اور موسیقی سے گریز کیا جائے،بارسلونا کی بلدیہ کا مشورہ
Screenshot
کاتالونیا میں مذہب کے مضمون کے خلاف مہم اور بعض تعلیمی اداروں میں کرسمس تقریبات پر پابندی کے درمیان، بلدیہ نے اسکولوں سے کہا ہے کہ وہ اسلامی مذہبی تہوار کے پیش نظر اپنے نظام کو “ہم آہنگ” کریں۔
بارسلونا کی بلدیہ نے اپنے دفتر برائے مذہبی امور (OAR) کے ذریعے شہر کے اسکولوں میں ایک رہنما دستاویز تقسیم کی ہے جس کا عنوان ہے:
“رمضان کے بارے میں تعلیمی مراکز کے لیے رہنما ہدایات”۔
اس دستاویز میں اسکولوں کی انتظامیہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احترام کے طور پر رمضان کے مہینے میں، جو اس سال 18 فروری سے شروع ہو کر 20 مارچ کو ختم ہوگا، ایسی غیر نصابی سرگرمیاں جیسے موسیقی اور رقص منعقد نہ کریں، کیونکہ بعض مسلمان افراد انہیں اس مہینے میں مناسب نہیں سمجھتے۔
دستاویز میں لکھا ہے:“ مسلمان افراد موسیقی یا رقص کو رمضان کے مہینے میں مناسب سرگرمی نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ مہینہ روحانیت کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے اور اس دوران زیادہ تقویٰ اور عبادت پر زور دیا جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس حساسیت کو مدنظر رکھا جائے یا متبادل سرگرمیاں پیش کی جائیں۔”
یہ رہنما اصول گزشتہ ماہ بلدیہ کے بین الثقافتی اور مذہبی تنوع کے محکمے کی ایک معلوماتی نشست کے دوران پیش کیے گئے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کاتالونیا کے اسکولوں میں مذہب کے مضمون کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے۔ حالانکہ ریاست اور ویٹیکن کے درمیان معاہدے کے مطابق اسکولوں میں مذہب کا مضمون پیش کرنا لازمی ہے، لیکن مذہب کے اساتذہ کے یونینوں کا کہنا ہے کہ داخلہ کے وقت والدین کو یہ اختیار شاذونادر ہی بتایا جاتا ہے۔
اسلامی متون کی مختلف تشریحات
“رمضان کے بارے میں تعلیمی مراکز کے لیے رہنما ہدایات” میں اسکولوں کو یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ کوئی قانون ایسا نہیں جو مسلمان طلبہ کو رمضان کے دوران کسی نصابی مضمون سے استثنیٰ دے۔
اسلام میں کوئی ایک مرکزی مذہبی اتھارٹی نہیں ہے، اس لیے مذہبی متون کی مختلف تشریحات ممکن ہیں۔
دستاویز میں نسبتاً سخت تشریحات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے بعض مذہبی اساتذہ کی تنظیموں نے “اسکولوں کی اسلامی انتہاپسند دھڑوں کے سامنے جھکاؤ” قرار دیا ہے۔
دوسری طرف اساتذہ کی یونین PREC نے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کو مثبت سمجھتے ہیں جو طلبہ کی مذہبی اور روحانی اقدار کا احترام کریں، لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ“جس حساسیت اور احترام کی بات اس رہنما میں کی گئی ہے، وہی رویہ سرکاری اسکولوں میں کیتھولک مذہب کے مضمون کے ساتھ بھی اختیار کیا جائے۔”
روزہ رکھنے والے طلبہ کے بارے میں ہدایات
اسکولوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ:
- روزہ رکھنے والے طلبہ کے روزے کا احترام کریں۔
- اگر ممکن ہو تو انہیں کھانے کے وقت کینٹین سے الگ جگہ فراہم کی جائے۔
- انہیں گھر بھیجنا درست عمل نہیں سمجھا جاتا۔
دستاویز میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی خاندان اسکول سے یہ کہے کہ ان کے بچے کو کھانے یا پانی نہ دیا جائے، تو اسکول کو اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس بارے میں رہنما اصول میں کہا گیا ہے:
“اسکول کا کام کسی خاندان کے مذہبی عقائد کا نگہبان بننا نہیں ہے۔ اگر کوئی بچہ کھانا یا پانی چاہتا ہے تو اسے اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ اسکول کا کام اسے روکنا نہیں، کیونکہ ایسا کرنا بچے کی حفاظت کے فرض کے خلاف ہو سکتا ہے۔”