اسپین میں نیا ہاؤسنگ پلان منظور، سرکاری گھروں کو مستقل تحفظ اور 7 ارب یورو کی خطیر سرمایہ کاری

Screenshot

Screenshot

اسپین حکومت نے منگل کے روز نیا اسٹیٹ ہاؤسنگ پلان 2026 تا 2030 منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد آئندہ چار برسوں میں رہائشی بحران سے نمٹنا ہے۔ اس منصوبے کے لیے 7 ارب یورو مختص کیے گئے ہیں، جو کہ گزشتہ منصوبے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔

یہ منظوری Consejo de Ministros کے اجلاس میں دی گئی، جہاں اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔ اس پلان کی تیاری ستمبر 2025 میں سامنے آنے والی بنیادی تجاویز کے بعد تقریباً سات ماہ میں مکمل کی گئی۔

وزیرِ ہاؤسنگ Isabel Rodríguez نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس منصوبے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ جو بھی سستی رہائش (Viviendas Protegidas) سرکاری فنڈز سے تعمیر ہوگی، اسے ہمیشہ کے لیے عوامی ملکیت میں رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان گھروں کو مستقبل میں نجی مارکیٹ میں فروخت یا آزاد نہیں کیا جا سکے گا۔

منصوبے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ سرکاری رہائش کی تعمیر کے لیے مالی امداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت زیادہ تر گھر کرائے پر دیے جائیں گے اور کرایہ کی زیادہ سے زیادہ حد 900 یورو ماہانہ مقرر کی گئی ہے، تاکہ متوسط اور کم آمدنی والے افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

حکومت کے مطابق یہ پروگرام 2026 کے دوسرے نصف میں خودمختار علاقوں (Comunidades Autónomas) کے ساتھ معاہدوں کے بعد مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس اقدام کو اسپین میں بڑھتی ہوئی مہنگی رہائش اور کرایوں کے مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے