اسپین کا نظام صحت عالمی مثال قرار، عالمی ادارہ صحت کا اعتراف
Screenshot
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اسپین نے ثابت کر دیا ہے کہ سب کے لیے صحت کی سہولیات فراہم کرنا کوئی خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت ہے۔
میڈرڈ میں منعقدہ تقریب سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم Ghebreyesus نے اسپین کو 1986 میں منظور ہونے والے قانونِ صحت کے 40 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ اس تقریب میں وزیر اعظم پیدروسانچز اور وزیر صحت مونیکا گارسیا سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ چار دہائیاں قبل اسپین نے صحت کی عالمی کوریج کو قومی ترجیح بنایا، جس کی بنیاد برابری اور مضبوط بنیادی طبی نظام پر رکھی گئی۔ ان کے مطابق مسلسل سیاسی عزم اور سرمایہ کاری کے باعث اسپین نے اپنے اس وعدے کو پورا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی صحت کی سہولیات نہ صرف عوامی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ تعلیمی معیار اور نظام کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت کا مضبوط نظام معاشی ترقی، سماجی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد بنتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں اب بھی تقریباً 4.5 ارب افراد ضروری طبی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ 2 ارب لوگ علاج کے اخراجات کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نہ صرف صحت بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ ہے۔
آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ضروری ہے اور ہر پالیسی میں صحت کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔