ہومیوپیتھی محض پلیسبو ہے اور صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، وزارتِ صحت اسپین کی رپورٹ
Screenshot
اسپین کی وزارتِ صحت نے ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں ہومیوپیتھی کو سائنسی طور پر غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے اثرات پلیسبو (دھوکہ دہی پر مبنی وقتی اثر) سے زیادہ نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں گزشتہ پندرہ برس کے سائنسی مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ہومیوپیتھک علاج کسی بھی بیماری کے مؤثر علاج کے طور پر ثابت نہیں ہو سکا۔
وزارت کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہومیوپیتھی کے استعمال سے اصل خطرہ یہ ہے کہ مریض مؤثر اور ثابت شدہ طبی علاج چھوڑ سکتے ہیں، جس سے ان کی صحت کو نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ مصنوعات اسپین میں قانونی طور پر فروخت ہوتی ہیں، لیکن ان کی طبی افادیت کے حق میں کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
وزیر صحت مونیكا گارسیا نے کہا کہ ہومیوپیتھی “سائنسی طور پر بے اثر” ہے اور جتنی سخت تحقیق کی جائے اتنا ہی واضح ہوتا ہے کہ اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔ ان کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ مریض مؤثر علاج سے دور ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسپین میں ہومیوپیتھک مصنوعات کی سالانہ فروخت کروڑوں یورو تک پہنچتی ہے، تاہم ان کی افادیت پر سائنسی برادری پہلے ہی سوال اٹھاتی رہی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ رپورٹ عوامی آگاہی کے لیے اہم ہے تاکہ لوگ غیر سائنسی علاج کے بجائے مستند طبی طریقوں پر اعتماد کریں۔