اسپین میں تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن پر نظام کے “تباہی کے دہانے” تک پہنچنے کا خدشہ
Screenshot
اسپین میں تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے جاری عمل نے سرکاری نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال انتظامی “کولپس” یعنی نظام کے بیٹھ جانے کا سبب بن سکتی ہے۔
کاتالونیا کی امیگریشن کمیشن کے مطابق حکومتی ادارے اس غیر معمولی عمل کے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ کمیشن کے ترجمان مارک خیمنیز باخمان نے کہا کہ درخواستوں کی بڑی تعداد، دستاویزات کے پیچیدہ تقاضے اور عملدرآمد میں جلد بازی نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سے تارکینِ وطن کو ضروری دستاویزات حاصل کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، خاص طور پر وہ کاغذات جو بیرونِ ملک سے حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، حکام کی جانب سے بار بار تقاضوں اور فارم میں تبدیلی سے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر قانونی حیثیت رکھنے والے افراد کو پہلے ہی قانون کے تحت کمزور سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان سے اضافی “کمزوری رپورٹس” طلب کرنا غیر ضروری ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ طریقہ کار حد سے زیادہ پیچیدہ ہے اور اسے آسان بنانے کی ضرورت ہے۔
ادھر اس عمل کے باعث سوشل سیکیورٹی، ڈاک کے نظام اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ کئی مقامات پر سسٹم کی خرابی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ بلدیاتی دفاتر میں عملے کی کمی کے باعث لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، خاص طور پر L’Hospitalet de Llobregat جیسے شہروں میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔
مزید برآں، جعلی ایجنٹوں اور غیر قانونی مشیروں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حکام نے تارکینِ وطن کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف مستند ماہرین سے ہی رہنمائی حاصل کریں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2 ہزار سے زائد افراد اس عمل کے لیے اپائنٹمنٹ لے چکے ہیں۔ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں رابطہ کاری کا فقدان رہا، تاہم اب معلومات کی فراہمی بہتر بنانے، کمزور افراد کی مدد اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے نئے اقدامات کی تیاری کی جا رہی ہے۔