بین الاقوامی میڈیا میں ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدروسانچز پر سخت تنقید ،بےوقوف تک کہہ دیا
Screenshot
امریکا کی ایران کے خلاف جنگ میں تعاون سے انکار کرنے پر ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز کو امریکی میڈیا میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ملک کے بڑے اخبارات، جیسے The New York Times اور The Washington Post نے ان کے مؤقف کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے انہیں ایران کا “مفید بے وقوف” یا نیٹو کا پیچھے رہ جانے والا اتحادی قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار The Wall Street Journal بھی ہسپانوی حکومت پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہے۔ پیر کے روز شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس نے لکھا کہ واشنگٹن کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے والے ممالک میں اسپین ایک استثنا ہے۔ اخبار نے اسپین کو “نیٹو کا سب سے پیچھے رہ جانے والا رکن” قرار دیا۔
اسی اخبار نے مزید لکھا کہ “ایران کی حکومت کے پاس اب بھی ایسے مفید بے وقوف موجود ہیں جن پر وہ اعتماد کر سکتی ہے”۔
بدھ کے روز تنقید اس وقت مزید بڑھ گئی جب ادارتی کالم نگار Matthew Hennessey نے طنزیہ انداز میں ایک کالم لکھا۔ انہوں نے کہا کہ سانچیز نے اندرونی سیاسی وجوہات کی بنا پر خود کو بیل فائٹر (تورےرو) کے کردار میں پیش کرنے کی کوشش کی اور ایران کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرنا چاہا۔
ان کے مطابق:“سانچیز آسانی سے اس معاملے کو نظرانداز بھی کر سکتے تھے۔ کوئی بھی یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ ہسپانوی فوج اسلامی انقلابی گارڈ کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔”
کالم میں مزید کہا گیا کہ ایران نے غلط اندازہ لگایا کہ ٹرمپ اپنی دھمکیوں پر عمل نہیں کریں گے، لیکن صرف ایران ہی غلطی پر نہیں تھا۔
انہوں نے لکھا:“مسٹر سانچیز نے خود کو سب سے بڑے، سب سے جارح اور سب سے خطرناک بیل کے سامنے میدان میں اتار دیا۔ اب وہ اور ان کا ملک جانیں گے کہ سینگ لگنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔”
دوسری طرف The New York Times نے لکھا کہ پیدرو سانچیز یورپ کے مایوس ترقی پسندوں کے لیے ایک حوالہ بن چکے ہیں۔ اخبار کے مطابق براعظم یورپ میں جہاں دائیں بازو کی جماعتیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں، وہاں سانچیز کو بائیں بازو کی واضح آواز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اخبار کے مطابق سانچیز تقریباً آٹھ سال سے اقتدار میں ہیں اور انہوں نے کئی بار سیاسی مخالفین کو حیران کرتے ہوئے اپنی حکومت برقرار رکھی ہے۔ ہسپانوی قدامت پسند انہیں ایسا سیاست دان سمجھتے ہیں جو اقتدار میں رہنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے۔
اسی طرح The Washington Post کا کہنا ہے کہ سانچیز نے دیگر یورپی رہنماؤں سے ہٹ کر امریکہ کی قیادت میں ہونے والے حملے پر سوال اٹھایا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ تجارتی دھمکیوں کے باوجود جھکنے سے انکار کیا۔
اخبار کے مطابق سانچیز نے بارہا ٹرمپ کو چیلنج کرنے کی غیر معمولی آمادگی دکھائی ہے اور وہ وہاں تک جانے کی ہمت کرتے ہیں جہاں زیادہ تر یورپی رہنما قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق“ترقی پسند سانچیز بتدریج ٹرمپ کے مقابلے میں یورپی مزاحمت کی علامت بنتے جا رہے ہیں، حالانکہ کچھ مبصرین انہیں خبردار کر چکے تھے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔”
آخر میں اخبار لکھتا ہے کہ سانچیز، جو اس وقت سروے میں مقبولیت میں کمی اور مختلف اسکینڈلز کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اپنی سیاسی زندگی کی ‘نو جانوں’ کے لیے بھی مشہور ہیں اور شاید وہ اسپین میں ٹرمپ کی غیر مقبولیت، خاص طور پر اپنے بائیں بازو کے حامیوں کے درمیان، پر سیاسی داؤ کھیل رہے ہیں۔