Screenshot
میڈرڈ / قومی عدالت کی جج ماریا تاردون نے سیوتا میں جولائی کے آخر میں تارکینِ وطن کے بڑے پیمانے پر غیر قانونی داخلے کے معاملے کی تحقیقات میں اسپین کی ریاست کو بطور فریقِ استغاثہ شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ ریاست کو اس واقعے سے متاثرہ فریق قرار دیتے ہوئے کیا ہے، کیونکہ جج کے مطابق یہ واقعہ اسپین کی قومی خودمختاری کے لیے ممکنہ طور پر ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
جج نے ریاستی وکلا کی جانب سے مقدمے میں باضابطہ طور پر شامل ہونے کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ اس واقعے سے صرف خود مختار شہر سیوتا اور اس کے رہائشی ہی براہِ راست متاثر نہیں ہوئے بلکہ اسپین کی ریاست بھی ممکنہ طور پر متاثرہ فریق ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہونے سے متعلق مبینہ مجرمانہ سرگرمیاں قومی خودمختاری، ملکی آزادی، ریاستی استحکام اور اسپین کی علاقائی سالمیت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جج نے قومی دفاع، بیرونی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے استحکام سے متعلق خدشات کو بھی اس معاملے میں اہم قرار دیا ہے۔
قومی عدالت نے رواں ہفتے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عدالت کے مطابق بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک سے مبینہ طور پر کی جانے والی ایک مجرمانہ سرگرمی کے ذریعے اسپین کی علاقائی سالمیت کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اسپین میں داخلے کو ذریعہ بنایا گیا۔
سیوتا جو شمالی افریقہ میں واقع اسپین کا خود مختار شہر ہے، ماضی میں بھی غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے کئی بڑے واقعات کا مرکز رہا ہے۔ تازہ عدالتی کارروائی میں اب اسپین کی ریاست بھی باضابطہ طور پر مقدمے میں شامل ہوگی، جس کے بعد معاملے کی قانونی اور قومی سلامتی سے متعلق تحقیقات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
