امریکہ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سائیکل پر جانے والے قابل فخر پاکستانی راحیل اصغر راجہ بارسلونا پہنچے اور مختصر قیام کے بعد حرمین شریفین کی طرف دوبارہ روانہ ہو گئے۔ انھوں نے 12 جولائی کو امریکہ کی ریاست الاسکا سے مکۃ المکرمہ کے لیے سائیکل پر اپنا مقدس سفر شروع کیا اور سستانے کے لیے بارسلونا میں مختصر قیام کیا۔

بارسلونا کے قریب پہنچنے پر بی ایم ایجوکیٹرز کے ڈائریکٹر مظہر حسین راجہ اور ان کی ٹیم نے شہر کے داخلی پوائنٹ پر باہمت نوجوان راحیل اصغر راجہ کا پرتپاک استقبال کیا اور بی ایم سینٹر کی گاڑیوں نے عزت و تکریم کے لیے سائیکل سوار کو اپنی حصار میں لے کر پروٹوکول کے ساتھ بارسلونا شہر میں داخل کیا۔

اپنے مختصر قیام کے دوران راحیل اصغر راجہ نے بتایا کہ الاسکا اور کینیڈا کے خطرناک جنگلات میں ریچھ، گینڈے اور دیگر خطرناک جانوروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سینکڑوں کلومیٹر تک ابادی کا نام و نشان نہیں بلکہ سارا دن کوئی انسان روڈ پر نظر نہیں آتا مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہر جنگلی درندے اور جانور سے محفوظ رکھا اور وہ سارے راستے میں ذکر الہی کرتے رہے اور خوف کا مقابلہ کرنے کی بھی اللہ نے ہمت عطاء فرمائی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سفر سے پہلے اڑھائی سال تک مسلسل وہ اللہ کے صفاتی نام الْقَهَّار کا ذکر کرتے رہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل غلبہ پانے والا۔ اللہ پاک کے ذکر اور درود پاک کی برکت سے وہ ہر روز 100 تا 120 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ علاؤہ ازیں مرحوم والد محترم کی روح اور ذندہ والدہ محترمہ کی دعاء نے پورے راستے میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑا جبکہ میرے تمام بہن بھائی بھی اس سفر کے لیے دعائیں کر رہے ہیں جس وجہ سے مجھے کوئی خوف یا ڈر نہیں رہتا لیکن کبھی کبھار خراب موسم، چڑھائی اور ہوا کا رخ فاصلے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان ساری مشکلات کے باوجود وہ تقریبا 12 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے بارسلونا پہنچے چکے ہیں اور ابھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک بہت سا سفر باقی ہے۔ اس لیے وہ سردیوں سے پہلے یورپ کی سرزمین سے نکل کر حجاز مقدس کے قریب پہنچنا چاہتے ہیں تا کہ برف باری سے پہلے دسمبر تک وہ مکہ مکرمہ پہنچ جائیں اور پھر عمرہ کے بعد سائیکل پر مدینہ منورہ روانہ ہو جائیں۔

راحیل راجہ نے مزید بتایا کہ اس سفر میں ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور راستے میں کسی دوائی یا ڈاکٹر کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی البتہ کچھ مستند دیسی چیزیں مثلا سونف، اجوائن ، کلونجی سفید زیرہ، لونگ اور زیتون کا تیل ان کے پاس ہے جو ہر کھانے کے بعد ہر چیز تھوڑی سی استعمال کر لیتے ہیں جس سے ان کے جسم کو توانائی ملتی ہے اور ساتھ باقاعدہ نماز اور ذکر الہی و درود پاک ان کے جسم کو ہمیشہ توانا رکھتے ہیں۔

بارسلونا میں مختصر قیام کے دوران بی ایم ایجوکیٹرز کی طرف سے راحیل اصغر راجہ کو اگلے مبارک سفر کے لیے نئی سائیکل کا تحفہ پیش کیا گیا اور روانگی سے قبل راجہ بشارت، راجہ محمد فاروق، راجہ ذیشان، شوکت اویسی اور بی ایم ایجوکیٹر کی مینجمنٹ سمیت بہت سے طلبہ و طالبات نے الوداعی ملاقات کی اور یوں روحانی سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔
یاد رہے کہ راحیل اصغر راجہ کا تعلق کوٹلہ ارب علی خاں ( ضلع گجرات) کے نواحی گاؤں شیخ پور سے ہے اور وہ نمل یونیورسٹی اسلام اباد کے پروفیسر جمیل اصغر جامی صاحب کے سگے بھائی ہیں اور ننہال ددھیال دونوں اعلی مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔ یورپ میں ان کے بہت سے چاہنے والے موجود ہیں مگر انہوں نے کسی کے پاس زیادہ قیام کی بجائے اپنے سفر کو ترجیح دی ہے۔ ادھر امریکہ میں آرمی کے افسران و جوان، تاجر پیشہ افراد اور امریکی سول سوسائٹی کے لوگ سوشل میڈیا پر اس سفر کو مسلسل دیکھ رہے ہیں اور سفر شروع ہونے سے قبل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے ان کے انٹرویوز کیے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ایسے نوجوان کا یہ دلیرانہ عمل انتہائی قابل فخر ہے جو الاسکا سے تنہا چل کر پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ الودگی سے پاک سیاحت کو فروغ دیا جائے، محبت بانٹی جائے، امریکہ سے شروع و غرب تک جنگیں ختم کی جائیں، دولت و قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اسلام کو ماننے والے دنیا میں امن کے داعی ہیں اور جنگ میں لپٹے ملکوں میں بارود و اسلحہ کی بجائے کاروباری کمپنیاں قائم کر کے غریب لوگوں کے ساتھ خوشیاں بانٹی جائیں تب دنیا ایک گلوبل ویلج بنے گی اور لوگ اپنی سائیکل پر جدھر چاہیں بلا خوف سفر بھی کر لیا کریں گے۔
راحیل اصغر پچھلے سترہ سال سے امریکہ میں رہائش پزیر ہیں مگر ان کا دل ہمیشہ مادر وطن پاکستان اور حجاز مقدس کی محبت میں دھڑکتا ہے اور سائیکل پر لمبا سفر اس محبت کی عملی مثال ہے۔
مظہر حسین راجہ بارسلونا۔
