Screenshot
کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے وزیراعظم پیدرو سانچیز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے اندر موجود اختلافی اور اقلیتی آراء پر حملہ کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کو برداشت کرنا چاہیے۔
کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بدھ کے روز وزیراعظم پیدرو سانچیز کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ گوآدالاخارا کے علاقے الوویرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ سانچیز سوشلسٹ پارٹی کے اندر موجود ’’اقلیتی آراء‘‘ کو کیوں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول حکومت خود ملک میں موجود بعض انتہائی متنازع سیاسی گروہوں کی حمایت پر انحصار کرتی ہے۔
گارسیا پیج کا یہ ردعمل سانچیز کے ایک حالیہ انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس میں وزیراعظم نے گارسیا پیج اور سابق وزیراعظم فیلپے گونزالیز کے حکومت مخالف مؤقف کو پارٹی کے اندر ’’اقلیتی اور حاشیے پر موجود‘‘ آراء قرار دیا تھا۔
گارسیا پیج نے کہا کہ وزیراعظم کو اس بات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے مختلف رائے رکھنے کی بھی گنجائش موجود ہو۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت کے بہت سے مؤقف سے وہ اتفاق کرتے ہیں، تاہم ان کا اصل مسئلہ حکومت کی پالیسیوں میں بار بار آنے والی تبدیلیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی پہلی رائے سے اتفاق کرسکتے ہیں، لیکن ان کے بقول اس کے بعد سامنے آنے والی ’’سینکڑوں تبدیل شدہ آراء‘‘ سے اتفاق کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار مؤقف تبدیل ہونے سے حکومت کی ساکھ اور اعتبار متاثر ہوتا ہے۔
سانچیز کے اس اعلان پر بھی گارسیا پیج سے سوال کیا گیا کہ وزیراعظم 2027 کے انتخابات میں دوبارہ امیدوار بننے کے لیے پرائمریز میں حصہ لیں گے اور انتخابی مہم میں سابق وزیراعظم خوسے لوئیس رودریگیز زاپاتیرو بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ گارسیا پیج نے جواب دیا کہ سانچیز یہ باتیں پہلے بھی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آخرکار فیصلہ عوام ہی کریں گے اور اصل سوال یہ ہے کہ سانچیز پرائمریز میں حصہ لینے کے بجائے کوئی دوسرا سیاسی راستہ اختیار کرسکتے ہیں یا نہیں۔
