Screenshot
یورپی کمیشن نے مراکش سے غیر قانونی طور پر سیوتا میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسپین کو ہنگامی مالی اور عملی تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برسلز نے اسپین کے خودمختار شہر سیوتا (Ceuta) میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 114.7 ملین یورو کے ہنگامی فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق یہ رقم شہر میں موجود تارکینِ وطن سے متعلق فوری ضروریات پوری کرنے اور صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
یورپی یونین نے مالی امداد کے ساتھ ساتھ فرنٹیکس (Frontex) کی جانب سے اضافی آپریشنل تعاون فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ یورپی کمشنر برائے داخلہ و ہجرت میگنس برونر نے کہا کہ سیوتا کی صورتحال نے یورپ کی سرحدی سلامتی اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کا امتحان لیا ہے۔
برونر کے مطابق یورپی کمیشن نے پہلے دن سے ہی ہسپانوی حکام کی حمایت کی ہے اور اب زمینی سطح پر فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید ٹھوس تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن افراد کو علاقے میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، انہیں واپس بھیجنا ترجیح رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو مراکش سے بڑی تعداد میں تارکینِ وطن غیر قانونی طور پر سیوتا میں داخل ہوئے تھے، جس کے بعد کئی ہزار افراد اب بھی شہر میں موجود ہیں۔
اس صورتحال کے تقریباً ایک ماہ بعد، 28 اگست کو ہسپانوی حکومت نے یورپی کمیشن سے باضابطہ طور پر مزید وسائل اور ہنگامی فنڈز کی درخواست کی تھی۔ اسپین نے خاص طور پر ان افراد کی جانچ اور ابتدائی درجہ بندی کے لیے اضافی وسائل کے علاوہ 32 ملین یورو کی ہنگامی امداد مانگی تھی۔
میڈرڈ اور برسلز کے درمیان کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یورپی کمیشن نے امدادی رقم میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے 114.7 ملین یورو جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیوٹا میں مہاجرین کی آمد نے اسپین کی سرحدی انتظامیہ اور یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
