Screenshot
اسپین کے مختلف علاقوں میں لگنے والی شدید جنگلاتی آگ کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں افراد کو گھروں سے نکالا گیا یا گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ آگیں خاص طور پر میڈرڈ، آویلا، کاستیلون (Vall d’Uixó) اور تولیدو میں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جہاں ہزاروں ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے اور درجنوں سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔
کاستیلون کے علاقے Vall d’Uixó میں ہفتے کے روز لگنے والی آگ نے 16 ہزار سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا۔ اب تک تقریباً 7,200 ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے جبکہ آگ کا دائرہ 67 کلومیٹر تک پھیل چکا ہے۔
فائر فائٹرز کی 21 یونٹس، جن میں زمینی اور ہیلی کاپٹر ٹیمیں شامل ہیں، مسلسل آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ ڈرونز کے ذریعے آگ کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
وزیر داخلہ فرناندو گراندی مارلاسکا کے مطابق میڈرڈ میں لگنے والی آگ نے دیگر علاقوں کاستیا و لیون اور کاستیا لا مانچا تک اثر ڈالا ہے۔
یہاں 35 ہزار سے زائد افراد کو نکالا گیا جبکہ 22 ہزار کے قریب لوگ گھروں میں محدود ہیں۔
تقریباً 3,000 اہلکار اور ایک ہزار کے قریب زمینی و فضائی وسائل امدادی کارروائیوں میں شامل ہیں۔
آویلا کے علاقے Burgohondo میں آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں کچھ بہتری آئی ہے۔
ہوا کا رخ جنوب کی طرف ہونے سے آگ کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے، جس سے فائر فائٹرز کو قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔
تاہم کچھ علاقے جیسے Casillas اور Puerto de Mijares اب بھی حساس ہیں۔
آویلا میں 16 دیہات خالی کرا لیے گئے جبکہ 3 کو بند رکھا گیا ہے۔
تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ کئی بار آبادیوں کے قریب پہنچ گئی، تاہم حکام نے شہری علاقوں کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دی ہے۔
گوادالاخارا (La Mierla) میں آگ پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے،تولیدو میں مویشی پالنے والے افراد شدید متاثر ہوئے ہیں،اورینسے (Boborás) میں بھی ایک نئی آگ بھڑک اٹھی ہے، جس کی وجہ ممکنہ طور پر ٹرین بتائی جا رہی ہے
اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وزارت داخلہ نے بدھ کے روز تمام خودمختار علاقوں کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ قومی سطح پر اقدامات کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ حکومت متاثرہ کارکنوں کے لیے خصوصی امدادی پیکج تیار کر رہی ہے، جس کی منظوری جلد متوقع ہے۔
مجموعی طور پر یہ آگ اسپین کی تاریخ کے بڑے ہنگامی واقعات میں سے ایک بن چکی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔
