Screenshot
بھارتی فلم اسٹار شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان کی پاکستان سے بھارت ہجرت کی کہانی دراصل پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم باب سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ انکشاف معروف سیاستدان حاجی غلام احمدبلور کی سوانح عمری “میں کیوں نہیں ٹوٹا؟” میں کیا گیا ہے۔
حاجی غلام احمد بلور کے مطابق، تاج محمد خان کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا)خان عبدالقیوم خان کے دور میں شدید سیاسی انتقام کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس اورخدائی خدمت گار موومنٹ سے وابستہ تھے، جس کی وجہ سے انہیں بار بار گرفتار کیا گیا اور ہراساں کیا گیا۔
1948 میں پشاور میں حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب خان عبدالغفار خان کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ بابڑہ کے مقام پر پولیس فائرنگ میں متعدد افراد مارے گئے، جبکہ خدائی خدمتگار کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔
ان حالات میں تاج محمد خان کے گھر پر بار بار چھاپے مارے گئے، جس کے باعث وہ مجبور ہو کر اپنے خاندان کے ساتھ دہلی منتقل ہو گئے۔ وہاں ان کے قریبی دوست محمد یونس نے ان کی مدد کی، جو پہلے ہی جواہر لعل نہرو کے مشورے پر بھارت جا چکے تھے۔
ہاجی بلور اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ شاہ رخ خان کے والد دراصل خان عبدالقیوم خان کی سخت پالیسیوں اور مسلسل گرفتاریوں سے تنگ آ کر پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
یہ سوانح عمری نہ صرف ایک خاندان کی ہجرت کی کہانی بیان کرتی ہے بلکہ پاکستان میں جمہوریت پر ہونے والے بار بار حملوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ہاجی بلور کے مطابق سیاسی انتقام اور طاقت کا استعمال ہمیشہ جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔
مزید برآں، کتاب میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہاجی بلور کا کہنا ہے کہ اگر بھٹو بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت ختم نہ کرتے تو شاید انہیں اس انجام کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
یہ کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والی قومیں اکثر وہی غلطیاں دہراتی ہیں، اور اس کا خمیازہ جمہوریت کو بھگتنا پڑتا ہے۔
