Screenshot
میڈرڈ/ ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز کی اہلیہ بیگونیا گومیز کے خلاف جاری مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عوامی شکایت کنندگان نے سزا کی درخواست 24 سال سے کم کر کے 13 سال کر دی ہے۔
یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب میڈرڈ کی عدالتِ عالیہ نے فیصلہ دیا کہ بیگونیا گومیز پر چار کے بجائے صرف دو الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ عدالت نے کاروباری بدعنوانی اور غبن کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے صرف اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں خرد برد کے الزامات کو برقرار رکھا۔
عوامی شکایت کنندہ تنظیم Hazte Oír نے اپنے نئے مؤقف میں بیگونیا گومیز پر ایک الزام اختیارات کے ناجائز استعمال اور دو الزامات خرد برد کے عائد کیے ہیں، جن کی بنیاد پر مجموعی سزا کی مدت کم کر دی گئی ہے۔
اسی مقدمے میں بیگونیا گومیز کی مشیر کرستینا الواریز کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے، جن کے لیے پہلے 22 سال قید کی درخواست کی گئی تھی، تاہم اب اسے کم کر کے 6 سال کر دیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی منصوبوں میں بیگونیا گومیز کی معاونت کی۔
عدالت نے اس کیس کی سماعت جیوری کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں نو شہری حتمی فیصلہ سنائیں گے۔ مزید برآں، استغاثہ نے وزیراعظم پیدرو سانچیز، کاروباری شخصیت وکتر دی الداما اور وزیر انصاف فیلکس بولانیوس کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست بھی دی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق بیگونیا گومیز پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے Complutense یونیورسٹی پر اثر انداز ہو کر ایک خصوصی تعلیمی چیئر قائم کروائی اور مختلف نجی کمپنیوں سے فنڈنگ حاصل کی، جس سے انہیں مالی اور ساکھ کے فوائد پہنچے۔
دوسری جانب ہسپانوی حکومت نے اس کیس کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیگونیا گومیز کے خلاف کارروائی دراصل ایک منظم مہم اور دباؤ کا نتیجہ ہے۔
عدالت کی جانب سے اس سے قبل عائد کردہ بعض پابندیاں، جن میں پاسپورٹ ضبطی اور ملک سے باہر جانے پر پابندی شامل تھی، ختم کر دی گئی ہیں۔ اب مقدمہ حتمی سماعت کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں جیوری اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ الزامات کس حد تک ثابت ہوتے ہیں۔
