Screenshot
اسپین/ سیوتا میں قائم مہاجرین کے عارضی قیام کے مرکز Centro de Estancia Temporal de Inmigrantes (CETI) میں گنجائش ختم ہونے کے باعث درجنوں مہاجر سڑکوں پر سونے پر مجبور ہیں، جبکہ اسی دوران سمندر سے تین افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
CETI کے اطراف درختوں کے سائے تلے درجنوں نوجوان انتظار کر رہے ہیں کہ کب انہیں مرکز میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ کچھ کئی گھنٹوں سے جبکہ کچھ کئی دنوں سے انتظار میں ہیں۔ یہ افراد مراکش سے تیر کر سیوتا پہنچے ہیں اور اب کارڈ بورڈ، بینچوں یا زمین پر سونے پر مجبور ہیں، اس امید میں کہ جب کچھ لوگوں کو اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جائے گا تو ان کے لیے جگہ خالی ہوگی۔
شدید گرمی کے باعث مہاجرین سایہ تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ Cruz Roja کے رضاکار انہیں پانی، خوراک، کپڑے اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کر رہے ہیں۔ بہت سے افراد کے جسموں پر چٹانوں سے ٹکرانے کے زخم اور تھکن کے آثار نمایاں ہیں، خاص طور پر Tarajal کے علاقے کے قریب سے گزرنے کے بعد۔
زیادہ تر مہاجرین شمالی افریقہ (خصوصاً مراکش) سے تعلق رکھتے ہیں، جو Castillejos کے ساحل سے تیر کر یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے ساتھ سوڈان سے آنے والے افراد بھی شامل ہیں، جو جنگ سے بچنے کے لیے طویل سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ سب ایک ہی پریشانی میں مبتلا ہیں کہ کب انہیں CETI میں جگہ ملے گی، جو پہلے ہی اپنی گنجائش سے زیادہ بھر چکا ہے۔
یہ مرکز بیک وقت 512 افراد کو رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اکثر اس حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ جب تک لوگوں کو اسپین کے دیگر حصوں میں منتقل نہیں کیا جاتا، سینکڑوں افراد مرکز کے باہر انتظار کرتے رہتے ہیں۔
اسی دوران، اتوار کی صبح سے سیوٹا کے ساحل کے مختلف مقامات سے تین لاشیں برآمد ہوئیں۔ Guardia Civil کے غوطہ خور یونٹ (GEAS) نے ایک لاش دوپہر کے بعد چٹانی علاقے سے نکالی۔
یہ اموات اس خطرناک سمندری راستے کی نشاندہی کرتی ہیں، جہاں ہر موسمِ گرما میں بڑی تعداد میں لوگ بغیر حفاظتی وسائل کے سمندر میں اترتے ہیں تاکہ سیوٹا پہنچ سکیں، مگر تیز لہریں اور کرنٹ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور CETI کی گنجائش ختم ہونے سے سیاسی بحث بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ سیوٹا کی مقامی حکومت نے ہسپانوی حکومت سے امیگریشن قوانین میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ موجودہ صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
مزید برآں، جولائی کے مہینے میں اب تک 400 سے زائد کم عمر غیر ملکی مہاجرین سیوٹا پہنچ چکے ہیں، جس سے مقامی حفاظتی نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
