Screenshot
اسپین کی سیاسی جماعتیں پاپولر پارٹی (PP) اور ووکس Vox نے ایک معاہدے کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے برقع اور نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آئندہ ہفتے Corts Valencianes میں زیر بحث آنے والے بجٹ سے متعلق قانون کے دوران کیا گیا۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق سرکاری ملازمین پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران چہرہ نمایاں رکھیں اور ایسی کوئی چیز استعمال نہ کریں جو چہرے کو چھپائے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی مکمل شناخت کو یقینی بنانا، انتظامی شفافیت کو بہتر بنانا اور سرکاری اداروں میں سیکیورٹی کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔
اس پابندی سے صرف ان صورتوں میں استثنا ہوگا جب چہرہ ڈھانپنا طبی وجوہات یا کام کی حفاظت کے قوانین کے تحت ضروری ہو۔ خلاف ورزی کو سنگین غلطی تصور کیا جائے گا۔
تاہم، ووکس اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ مقامی پولیس کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ عوامی مقامات پر بھی ایسے لباس کے استعمال کو محدود کرے جو چہرہ چھپاتے ہیں۔ اس میں پبلک ٹرانسپورٹ، اسپتال، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
مزید برآں، ووکس مختلف قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ صحت کے مراکز میں چہرہ ڈھانپ کر داخلے پر پابندی لگائی جا سکے، جس کا جواز شناختی فراڈ کی روک تھام بتایا گیا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کے لیے چہرہ کھلا رکھنا لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
اگرچہ سرکاری ملازمین سے متعلق پابندی کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، لیکن دیگر سخت تجاویز پر حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں ووٹنگ کے بعد ہی ہوگا۔
