پاکستان کے سرکاری ادارے”ایف آئی اے”کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے کیپیٹل میں متعدد کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپا مار کر جعلی اپوسٹل سٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے نیٹ ورک میں شامل 16 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس نیٹ ورک سے منسلک دفترِ خارجہ کے چھ عہدیداروں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق قومی خزانے کو 43 ملین ڈالر ز یعنی 12 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ایف آئی اے نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں واقع ایف اینڈ ایف پلازہ کے بیسمنٹ میں واقع متعدد کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپہ مارا۔کارروائی کے دوران جعلی اپوسٹل سٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے اور 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔مقدمے میں دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویز کو اصلی کے طور پر استعمال کرنے سمیت اینٹی کرپشن کی بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ جن کنسلٹنسی اور کورئیر اداروں کے مالکان اور ملازمین اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملوث تھے ان میں سوفی کنسلٹنٹس، ایکسیلنٹ کورئیر سروس ، لیپرڈ کورئیر سروسز پلازہ آبپارہ، آر اے اے کےکنسلٹنسی، نون کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جی ایم کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس شامل ہیں۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ نجی اداروں سے تعلق رکھنے والے 16 ملزمان کے علاوہ وزارتِ خارجہ کے 6 افسران بشمول اے ڈی/اے پی ایس اٹیسٹیشن، انچارج اپوسٹل بھی اس نیٹ ورک میں شامل پائے گئے۔ملزمان اپوسٹل اور تصدیقی خدمات کو تیز کروانے کے نام پر درخواست گزاروں سے بھاری رقوم وصول کرتے تھے اور اس میں سے وزارتِ خارجہ کے افسران کو رشوت دی جاتی تھی۔جعلی اپوسٹل سٹیکرز پورے پاکستان میں مختلف مقامات پر گردش میں تھے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔گرفتار ملزمان کو متعلقہ عدالت میں پیش کر کے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔سرکاری ملازمین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔دلچسپ بات ہے کہ جمعرات کو دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان سجاد حیدر خان سے اس کرپشن بارے سوالات کیے گئے تو انھوں نے ان خبروں کو غیر مصدقہ اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھااور انھوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر 17 سے 18 ہزار دستاویزات کی تصدیق کی جاتی ہے اور گذشتہ برس اس مد میں وزارت کو 3.4 ارب روپے کی آمدن ہوئی ہے۔پاکستانی شہریوں کی دستاویزات جن میں تعلیمی اسناد، پیدائش اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے علاوہ پاور آف اٹارنی،تجارتی لین دین سے متعلق دستاویزات بھی شامل ہیں۔
