کوٹلہ ارب علی خان کے نواحی گاؤں سرسال میں ہفتہ کی شام سرسال روڈ سیفٹی آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام فری ایمبولینس سروس کی افتتاحی تقریب انتہائی پروقار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف سماجی رہنما اور سابق رکن پنجاب اسمبلی عامر عثمان عادل تھے، جنہوں نے اہلِ سرسال کے ہمراہ ایمبولینس سروس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ راجہ مظہر حسین صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے عوام کا ایک سمندر تقریب میں موجود تھا ۔

مہمانِ خصوصی کی آمد پر پروگرام کے منتظمین راجہ اعجاز گل، راجہ نثار، راجہ شمس اقبال، راجہ محمّد مختار، سید مظفر حسین شاہ، راجہ مٹھو، راجہ اظہر اور ایگزیکٹو کونسل کے سینئر اراکین نے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور اہلِ سرسال کی جانب سے محبت و خلوص کا اظہار کیا۔

تقریب کا آغاز حافظ سعید نے تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا، جبکہ راجہ فرخ نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کیا۔ علمائے کرام حافظ ظفر اقبال، عدنان صاحب اور مولانا شمس اقبال نے فلاحی کاموں کی اہمیت اور معاشرے میں خدمتِ خلق کے کردار پر روشنی ڈالی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سید افضال حسین شاہ نے نہایت خوبصورتی سے انجام دیے، جبکہ مظہر حسین راجہ نے ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے تقریب سے براہِ راست خطاب کیا۔

مہمانِ خصوصی عامر عثمان عادل نے اہلِ سرسال خصوصاً نوجوانوں سے ایک پُرجوش اور فکر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف ملکی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مظہر حسین راجہ کی کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں ایمبولینس سروس کا قیام نبی کریم ﷺ سے عملی محبت کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود اپنی ماں دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے ایسا فلاحی منصوبہ شروع کرنا اس بات کی روشن مثال ہے کہ انسان جسمانی طور پر جہاں بھی ہو، اس کا دل اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کے ساتھ دھڑک سکتا ہے۔

عامر عثمان عادل نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیم، صحت اور ماحولیات جیسے بنیادی شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ جو شخص اپنی قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے ایسے خواب دیکھتا ہے، اس کا ساتھ دینا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے وسائل محدود ہیں اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے اور ہمارے پیارے بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم رہیں۔ اس لیے جہاں ضرورت ہو، ہمیں حکومت کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر ہم صرف سرکاری سہولیات کے منتظر رہے تو ممکن ہے ہماری آنے والی نسلیں جوان ہو جائیں، مگر بنیادی سہولیات سے محرومی کا مسئلہ اپنی جگہ موجود رہے۔

مہمانِ خصوصی نے کوٹلہ ارب علی خان کے نواحی گاؤں ملکہ کی مثال دیتے ہوئے اہلِ سرسال کو دعوت دی کہ وہ اس گاؤں کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ وہاں کے لوگوں نے باہمی تعاون اور اپنی مدد آپ کے جذبے سے اپنے گاؤں کو کس طرح ایک فلاحی بستی کی شکل دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں بہترین راستوں، شجرکاری، ڈسپنسری، اسکولز اور فلٹریشن پلانٹ سمیت بیواؤں، معذور افراد اور حفاظ کے لیے وظائف جیسے متعدد فلاحی اقدامات اہلِ علاقہ نے اپنی مدد سے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا”اگر ملکہ کے لوگ اپنے گاؤں کے لیے یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو سرسال کے لوگ بھی یہ کر سکتے ہیں۔ ضرورت صرف جذبے، اتحاد اور اجتماعی سوچ کی ہے۔”
عامر عثمان عادل نے سرسال سے اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس گاؤں سے رشتہ اس وقت سے قائم ہے جب وہ بھمبر کالج میں سرسال کے طلبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرسال کے لوگ آج زندگی کے مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

انہوں نے خصوصی طور پر سرسال کی بیٹی صغریٰ صدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ اس علاقے کی ان ابتدائی بیٹیوں میں شامل تھیں جو یونیورسٹی تک پہنچیں اور آج بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا”صغریٰ صدف کے نام کے ساتھ سرسال کا نام بھی دنیا تک پہنچا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔”

اپنے خطاب میں عامر عثمان عادل نے ماحولیات، صحت اور تعلیم کے مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے درختوں کی بے دریغ کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماحول کا تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے صحت کے شعبے میں بنیادی سہولیات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ اسی طرح تعلیم کے حوالے سے انہوں نے عالمی اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم، صحت اور ماحولیات ایسے شعبے ہیں جن کا براہِ راست تعلق ہماری زندگی، ہمارے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے ہے۔

تقریب کا بنیادی پیغام بھی یہی تھا کہ فلاحی معاشرہ صرف حکومتوں سے نہیں بنتا، بلکہ باشعور، متحد اور دردِ دل رکھنے والے افراد جب اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں تو معاشرے میں حقیقی تبدیلی جنم لیتی ہے۔
سرسال میں فری ایمبولینس سروس کا آغاز بھی اسی جذبۂ خدمت کی ایک خوبصورت مثال ہے—ایک ایسا قدم جو ضرورت کے وقت انسانیت کی خدمت، اپنے لوگوں کی مدد اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرتا ہے۔

اس تقریب میں علمائے، گورنمنٹ سکول سرسال کے ہیڈ ماسٹر جناب جاوید اقبال و اساتذہ کرام ، گورنمنٹ گرلز سکول کی ہیڈ مسٹریس اور سٹاف کے علاؤہ کرکٹ ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی جبکہ اسلام اباد اور فیصل اباد سے بھی کچھ مہمانوں نے خصوصی شرکت کی۔ پروگرام کو لائیو بھی نشر کیا گیا جسے سرسال کے اکثریتی اوورسیز پاکستانیوں میں دیکھا۔
