یونیسیف کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 74 فیصد بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی بڑھنے کے ساتھ بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے دوران تقریباً 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ سماجی بدنامی، شرمندگی اور خوف کے باعث 71 فیصد متاثرین نے کسی کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا۔
رپورٹ کے مطابق 12 سے 17 سال کی عمر کے متاثرین میں تقریباً 85 فیصد بچوں کا استحصال کرنے والے افراد ان کے پہلے سے جاننے والے تھے۔
سروے میں شامل کسی بھی بچے نے پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکنوں سمیت کسی باضابطہ ذریعے سے جنسی استحصال کی شکایت نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی خاموشی کی بڑی وجوہات میں سماجی بدنامی، شرمندگی اور خاندان یا معاشرے کے ردعمل کا خوف شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کے قدامت پسند معاشرتی ماحول میں لڑکیوں کو جنسی مواد کے ذریعے بلیک میل کیے جانے کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی نقل و حرکت محدود ہونے یا انہیں اسکول سے نکالے جانے جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
