پولینڈ کے مشہور سیاحتی شہر کراکوف کے تاریخی مرکز میں ہفتے کے روز فائرنگ کے ایک خوفناک واقعے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 12 کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
پولینڈ کے وزیر داخلہ مارسن کیروِنسکی کے مطابق حملہ آور دائیں بازو کی انتہا پسندانہ اور انتہائی قوم پرستانہ نظریات سے متاثر تھا۔ پولیس نے حملے میں ملوث 25 سالہ پولش شہری کو گرفتار کرلیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور سیاہ رنگ کی سبارو گاڑی میں سوار ہوکر دوپہر تین بجے کے بعد شہر کے مشہور مرکزی بازار کے قریب پہنچا اور راہگیروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس نے فوجی طرز کے کپڑے، بلٹ پروف جیکٹ اور چہرے پر نقاب پہن رکھا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں و سیاحوں نے قریبی دکانوں اور عمارتوں میں پناہ لی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور فرار ہونے کی کوشش میں دوسری گاڑی سے ٹکرا گیا۔ بعدازاں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے، جن میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ حملہ آور بھی شدید زخمی ہوا اور پولیس کی نگرانی میں اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں اس کے دو آپریشن کیے گئے۔
حکام کے مطابق حملہ آور کی گاڑی سے متعدد ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ اس نے ایک ٹرام پر بھی فائرنگ کی، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے انکشاف کیا کہ مشتبہ شخص کے گھر سے دو خواتین اور ایک مرد کی لاشیں بھی ملی ہیں، جن کا تعلق بظاہر اس کے قریبی خاندان سے ہے۔
وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ پولیس اور استغاثہ حملے کے محرکات اور ملزم کے ممکنہ روابط کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
