واشنگٹن: امریکہ میں منگل کے روز ہونے والے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرمز 2026ء) نے ملک کی سیاسی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔ ان انتخابات میں پہلی مرتبہ مسلمان سینیٹر، کھلے عام ہم جنس پرست سینیٹر، پہلی سیاہ فام خاتون گورنر اور پہلی مقامی امریکی خاتون سینیٹر منتخب ہوئی ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی امیدواروں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں نے بھی بعض ریاستوں میں نئے ریکارڈ قائم کیے۔
عبدال السید ریاست مشی گن سے کامیاب ہوکر امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے۔ 42 سالہ ڈیموکریٹک رہنما پیشے کے اعتبار سے وبائی امراض کے ماہر ہیں اور صحت عامہ کے شعبے میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم میں عوامی صحت کی سہولیات اور مزدوروں کے حقوق پر زور دیا۔
کرس پاپاس نیو ہیمپشائر سے کامیاب ہوکر امریکی سینیٹ کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست مرد رکن بن گئے۔
پیگی فلاناگن مینیسوٹا سے کامیاب ہوکر امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئی ہیں۔
ریاست جارجیا میں کیشا لانس باٹمز نے کامیابی حاصل کرکے امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
ریاست فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز پہلے سیاہ فام گورنر منتخب ہوئے۔
ریاست الاباما میں ایلیسن مونٹگمری پہلی کھلے عام ٹرانس جینڈر خاتون بن گئیں جنہیں ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب کیا گیا۔
ڈیب ہالینڈ نے نیو میکسیکو میں کامیابی حاصل کرکے ریاست کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
نیویارک میں فلسطینی نژاد ابر کواس پہلی فلسطینی نژاد خاتون بن گئیں جو ریاستی سینیٹ میں منتخب ہوئیں اور حجاب پہننے والی پہلی خاتون بھی ہیں۔
ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا پہلی لاطینی نژاد خاتون گورنر منتخب ہوئیں، جبکہ کیلیفورنیا میں زیویئر بیسیرا 150 سال سے زائد عرصے بعد پہلے لاطینی نژاد گورنر بن گئے۔
یہ کامیابیاں امریکی سیاست میں مختلف نسلی، مذہبی اور سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کی نمائندگی میں ایک نئی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔
