دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو (UNESCO) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2024 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں مجموعی طور پر 189 صحافی قتل کیے گئے، جو گزشتہ دو سالہ مدت کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران صحافیوں کی ہلاکتوں کی بدترین تعداد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں 92 جبکہ 2025 میں 97 صحافی قتل ہوئے۔ ان میں سے 67 فیصد ہلاکتیں جنگ زدہ علاقوں میں ہوئیں۔ ڈرون حملے صحافیوں کی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ بنے، جن کے نتیجے میں دو سال کے دوران 50 صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یونیسکو کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں سب سے زیادہ صحافی قتل ہوئے۔ 2024 میں 30 جبکہ 2025 میں 32 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ اس طرح دو سال میں فلسطین میں 62 صحافی اپنی جانیں گنوا بیٹھے، جو دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
لاطینی امریکا اور کیریبین میں 37 صحافی قتل ہوئے، جبکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں یہ تعداد 34 رہی۔ عرب ممالک میں مجموعی طور پر 97 صحافی قتل کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق صحافیوں میں خواتین کی ہلاکتوں کی تعداد 14 رہی، جن میں سے تقریباً تمام جنگ زدہ علاقوں میں قتل ہوئیں۔ مقامی صحافیوں کو غیر ملکی نامہ نگاروں کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ مجموعی ہلاکتوں میں 93 فیصد صحافی اپنے ہی ملک میں قتل ہوئے۔
یونیسکو نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے 86 فیصد مقدمات تاحال حل طلب ہیں یا ان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دو سال قبل یہ شرح 85 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے قتل میں ملوث عناصر کو سزا نہ ملنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صحافیوں کو قتل کے علاوہ قانونی کارروائیوں، غیر قانونی گرفتاریوں، دھمکیوں، ہراسانی اور جبری گمشدگیوں جیسے خطرات کا بھی سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران دنیا بھر میں 98 سے 160 صحافی لاپتا ہوئے، جبکہ مختلف اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق سینکڑوں صحافی گرفتار بھی کیے گئے۔
یونیسکو نے صحافیوں کے تحفظ، آزادی صحافت کے فروغ اور ان کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
