فرانس میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور سرکاری خدمات کے زوال کے خلاف ہفتے کے روز مسلسل تیسرے ویک اینڈ پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی، جبکہ ٹریڈ یونینز نے مظاہرین کی تعداد 5 لاکھ تک بتائی ہے۔
مظاہروں کے دوران پیرس، مارسیلے، لیون اور بورڈو سمیت کئی بڑے شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مختلف مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائیاں کیں، جبکہ تقریباً 300 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام نے اس دن کو سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا تھا۔ احتجاجی تحریک کا آغاز تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل طلبہ نے کیا تھا، جو اب ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ ہے کہ حکومت عوام کو درپیش مہنگائی، رہائشی اخراجات اور بنیادی سہولیات کے مسائل حل کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری خدمات کا معیار مسلسل گر رہا ہے اور عام شہریوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
نانت شہر میں ہونے والے مظاہرے کے دوران ایک خاتون نے فرانس کا قومی پرچم لہراتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات کے بجائے صرف معمولی ریلیف ملا ہے۔
ایک مظاہرہ کرنے والے کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں اس حکومت سے صرف چند ٹکڑے ہی ملے ہیں۔‘‘
مسلسل تیسرے ہفتے ہونے والے ان مظاہروں نے فرانس میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور عوامی بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے۔
