نیویارک /امریکہ میں آج ہفتے کے روز ہالووین کا تہوار منایا جا رہا ہے، جس کے موقع پر رواں سال صارفین کی جانب سے ریکارڈ 13 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ کیے جانے کی توقع ہے۔ اس سال خریداری کے رجحانات میں مصنوعی ذہانت (AI) بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، جس کے ذریعے لوگ خریداری کی منصوبہ بندی، مصنوعات کے انتخاب اور تہوار کی تیاریوں میں مدد حاصل کر رہے ہیں۔
نیشنل ریٹیل فیڈریشن (NRF) کے سالانہ سروے کے مطابق رواں سال متوقع اخراجات گزشتہ سال کے 13 ارب 10 کروڑ ڈالر کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہیں۔ امریکی شہری فی کس اوسطاً 115.14 ڈالر خرچ کریں گے، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 114.45 ڈالر تھی۔ دوسری جانب مشاورتی ادارے پرائس واٹر ہاؤس کوپرز (PwC) نے فی کس اخراجات کا تخمینہ 263 ڈالر لگایا ہے۔
سروے کے مطابق تقریباً نصف خریدار ہالووین کی تیاریوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مختلف پلیٹ فارمز اور ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ این آر ایف کے مطابق 34 فیصد افراد خریداری کی منصوبہ بندی جبکہ 32 فیصد مصنوعات کے انتخاب اور نئی تجاویز حاصل کرنے کے لیے اے آئی سے مدد لے رہے ہیں۔
پی ڈبلیو سی کی رپورٹ کے مطابق لوگ اے آئی کے ذریعے ملبوسات کے آئیڈیاز، سستی پیشکشوں، کھانوں کی ترکیبوں اور گھروں کی سجاوٹ کے منصوبے بھی تیار کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک اے آئی صارف اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی ہالووین خریداری خودکار انداز میں ترتیب دے رہا ہے۔
رواں سال ہالووین پر مٹھائیاں سب سے زیادہ خریدی جانے والی اشیا ہوں گی۔ تقریباً 96 فیصد امریکی شہری ٹافیاں اور دیگر مٹھائیاں خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 4.1 ارب ڈالر خرچ ہونے کی توقع ہے۔
سجاوٹ کی اشیا پر 4.3 ارب ڈالر، جبکہ ہالووین کے خصوصی ملبوسات پر 4.4 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ مبارک باد کے کارڈز کی خریداری بھی بڑھ رہی ہے۔
سروے کے مطابق 49 فیصد صارفین نے ستمبر یا اس سے پہلے ہی خریداری شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ اخراجات کو مختلف مہینوں میں تقسیم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی اور بڑھتی قیمتیں بھی اس رجحان کی اہم وجوہات ہیں۔ امریکہ میں ستمبر کے دوران افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیاد پر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو اگست کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ ہے۔
