لندن سے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ جانے والے ہنگری کی فضائی کمپنی وِز ایئر (Wizz Air) کے مسافر طیارے کو بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ حکام کے مطابق موصول ہونے والی دھمکی کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق طیارہ لندن سے صوفیہ کے لیے پرواز کر رہا تھا کہ دورانِ سفر بم کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ اس اطلاع کے بعد حفاظتی اقدامات فوری طور پر شروع کر دیے گئے اور طیارے کو ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ کے فرینک لِزٹ (Ferenc Liszt) انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ہنگری کے وزیر دفاع رومولوس روسین زینڈی (Romulusz Ruszin-Szendi) نے بتایا کہ دھمکی کی اطلاع ملتے ہی نیٹو کے فضائی دفاعی الرٹ پر مامور لڑاکا طیارے فوری طور پر فضا میں روانہ ہوئے۔ ان طیاروں نے مسافر طیارے سے رابطہ قائم کیا اور اسے بحفاظت ہوائی اڈے تک پہنچانے کے لیے فضائی نگرانی اور حفاظتی حصار فراہم کیا۔
وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ہنگری کی مسلح افواج کے فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک مرتبہ پھر حقیقی ہنگامی صورتحال میں اپنی اہمیت ثابت کی ہے۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
بم کی دھمکی کی نوعیت اور اس کی صداقت جاننے کے لیے پولیس کے تکنیکی ماہرین تحقیقات کر رہے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ طیارے کو بم کی دھمکی کس ذریعے سے موصول ہوئی تھی اور آیا اس میں کوئی حقیقت بھی تھی یا نہیں۔
واقعے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور تحقیقات جاری ہیں۔
